جگر خراب ہونے کی پہلی پانچ علا مات اور علاج

اگر جگر کی صحت کا خیال نہ رکھا جائے تو یہ باآسانی خراب ہو کر ہمیں بہت سے امراض میں مبتلا کرسکتے ہیں۔ جگر کا ایک عام مرض ہیپاٹائٹس ہے جو بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔اس اہم عضو کی اسی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے آج جگر کی حفاظت اور صحت کا شعور اجاگر کرنے کے لیے جگر کا عالمی دن

منایا جارہا ہے۔ جگر کی خرابی کی علامات یہاں ہم آپ کو ان علامات کے بارے میں بتا رہے ہیں جو جگر کی خرابی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اگر آپ کو ان میں سے کسی بھی علامت کا سامنا ہے توآپ کو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔ وزن میں اچانک کمی غنودگی، چکر آنا اور متلی کا احساس پیٹ کے اوپری حصے میں تکلیف محسوس ہونا جگر انسان جسم کے ان حصوں میں سے ایک ہے جن کو عام طور پر اس وقت تک سنجیدہ نہیں لیا جاتا جب تک وہ مسائل کا باعث نہیں بننے لگتے اور کچھ لوگوں کے لیے بہت تاخیر ہوجاتی ہے۔جگر کا درست طریقے سے کام کرنا متعدد وجوہات کے باعث اچھی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے تاہم اس کی بڑی اہمیت یہ ہے کہ ہم جو کچھ بھی کھاتے ہیں اسے ہضم کرنے کے لیے جگر کی ضرورت ہوتی ہے۔تو اس میں کسی بھی قسم کی خرابی یا بیماری کی صورت میں جو علامات سامنے آتی ہیں وہ بھی اکثر افراد نظر انداز کردیتے ہیں۔یہاں جگر کو نقصان پہنچنے کی ایسی ہی خاموش علامات کا ذکر کیا گیا ہے جن سے واقفیت ہر ایک کے لیے ضروری ہے۔ہر ایک کو کسی نہ کسی وقت تھکاوٹ کا سامنا ہوتا ہی ہے مگر جگر کے امراض کے باعث جس تکان کا تجربہ ہوتا ہے

وہ بالکل متختلف ہوتی ہے۔ جگر میں خرابی کی صورت میں یہ عضو توانائی پر کنٹرول کرکے دن کو پورا کرنا انتہائی مشکل بنا دیتا ہے۔ کافی اور دیگر کیفین والے مشروبات جگر کی حالت کو زیادہ بدترین بنادیتے ہیں، لہذا توانائی کو واپس حاصل کرنے کے لیے پانی، پھل اور صحت مند پروٹین تک محدود رہیں۔پلیٹ لیٹس خون کے اندر وہ ننھے ذرات ہوتے ہیں جو جریان خون سے موت کے خطرے کو ٹالنے کے لیے ضروری ہیں۔ جگر کے بیشتر مریضوں میں پلیٹ لیٹس کی کمی ہوجاتی ہے اور یہ جگر کے امراض کی شناخت کا بھی بڑا ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔قے کا احساس ہونا کسی کے لیے بھی خوشگوار ثابت نہیں ہوتا اور جگر کے امراض کے شکار افراد کو اس کا تجربہ اکثر ہوتا ہے۔جب آپ کے جسم کے مختلف حصے سوجنا خاص طور پر ٹانگوں کا سوجنا جگر کے امراض میں عام ہوتا ہے۔ اگر آپ کے پیر اکثر سوج جاتے ہیں تو روزانہ 20 منٹ تک چہل قدمی کو عادت بنانے سے خون کی روانی کو ٹانگوں میں بہتر بنایا جاسکتا ہے۔یرقان کے مرض سے تو سب ہی واقف ہیں اور بالغ افراد کو اس کا تجربہ عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب ان کے جگر کے اندر کچھ گڑبڑ چل رہی ہو۔ اس مرض میں جلد کی رنگت بدلنے لگتی ہے اور وہ چند گھنٹوں یا دنوں میں زرد یا اورنج شیڈ کی ہوجاتی ہے۔جگر کے مختلف امراض کے شکار افراد میں خون کی بیماریاں بھی پیدا ہوجاتی ہیں، جیسے خون زیادہ بہنے لگتا ہے یا بغیر کسی وجہ کہ جلد پر خراشیں پڑجانا وغیرہ

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *