اللہ کے ناموں کا انمول وظیفہ، جنت میں داخلہ کا راستہ

اللہ تعالی ٰ کے بابرکت نام او رصفات جن کی پہچان اصل توحید ہے ،کیونکہ ان صفات کی صحیح معرفت سے ذاتِ باری تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔عقیدۂ توحید کی معرفت اور اس پر تاحیات قائم ودائم رہنا ہی اصلِ دین ہے ۔اور اسی پیغامِ توحیدکو پہنچانے اور سمجھانے کی خاطر انبیاء و رسل کومبعوث کیا گیا او رکتابیں

اتاری گئیں۔ اللہ تعالیٰ کےناموں او رصفات کے حوالے سے توحید کی اس مستقل قسم کوتوحید الاسماء والصفات کہاجاتاہے ۔قرآن واحادیث میں اسماء الحسنی کوپڑھنے یاد کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔کسی بھی اچھی چیز کو اپنانا اسے اپنی زندگی کا حصہ بنانا انسان کیلئے فائدہ ہی فائدہ ہے ۔ ان کا بہترین استعمال ہے ان کیساتھ تعلق ہے وہ قرآن ہی نے بتایا کہ ان ناموں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو پکاریں اور اس کی رحمت کو جوش میں لائیں ۔حدیث سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ان ناموں کا یاد کرنا ان کو پڑھنا برکت کا سبب ہے جنت میں داخلے کا سبب ہے ۔ بخاری اور مسلم کی حدیث ہے ۔حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہے ۔ جس نے ان کو محفوظ کیا ان کو یاد کیا نہگداشت کی حفاظت کی وہ جنت میں داخل ہوگا تو گویہ ان ناموں کو یاد کرنا انہیں پڑھتے رہنا ان کا مذاکرہ کرنا ان کو اپنی زندگی میں محسوس کرنا یہ ایک پسندیدہ عمل ہے ۔ اس لیے دین کے طالب علم کو ان ناموں کا مطلب اور ان کے ذریعے اللہ سے تعلق کو مضبوط کرنے کا طریقہ آنا چاہیے ۔ اب یہ جو ننا نوے نام ہیں یہ حدیث میں بیان ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام ہیں تو زیادہ اگر کوئی یہ ننانوے

بھی کرلیتا ہے تو اس کیلئے بھی جنت ہے ۔یاد کرنے سے مراد یہاں ان کا احاطہ کیا ان پر غوروفکر کیا ان کے ساتھ تعلق استوار کیا یا ان اسمائے حسناء کے تقاضے ہیں یہ ہمارے زندگی سے مطالبہ کرتے ہیں ان تقاضوں کو پورا کیا تو جنت میں جانے کا سبب بنے گا ۔ جو ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگے گا۔ ان ناموں کا واسطہ دیکر انکو ذریعہ بنا کراللہ تعالیٰ اس شخص کی دعا قبول کرے گا اور اللہ سے قرب کا ذریعہ بنے گا۔اللہ نے انسان کو اس دنیا میں آزمائش کے لۓ بھیجا ہے ۔ اور اس آزمائش کے دوران اس کو طرح طرح کی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے وقت میں بہت سارے انسان مشکلات سے گھبرا کر راستے سے بھٹک جاتے ہیں اور یہ فراموش کر بیٹھتے ہیں کہ یہ صرف اور صرف اللہ کی جانب سے لیا جانے والا امتحان ہے۔ اور اس کا صلہ بھی وہی دے گا۔اللہ کی انسان سے محبت کی شدت کو ناپنے کے لۓ ستر ماؤں کی مثال دی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی اپنے بندوں سے اس کی محبت کو ناپنے کا پیمانہ آج تک دریافت ہی نہ ہو سکا ہے۔اللہ ذوالجلالِ والاکرام کے تمام نام بہترین ہیں،لہٰذا ان میں کسی بھی قسم کی تاویل، تعطیل یا تشبیہ یا انکار کا عقیدہ رکھنا صریحاً الحاد ہے۔ اللہ رب العزت کے کسی بھی نام کو

اس سے دعاء میں وسیلہ بنایا جاسکتا ہے اور یہی سب سے بہترین وسیلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمانِ مبارک ہے وَللہ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بھَا وَ ذَرُوا الَّذِین یُلْحِدُوْنَ فی اَسْمَآئِہٖ، سَیُجْزَوْنَ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ اور اللہ تعالیٰ کے لئے اچھے نام ہیں، لہٰذا انہی کے ساتھ اسے پکارو اوران لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں کے بارے میں کج روی کا شکار ہیں، جو کچھ وہ کرتے ہیں اس کا انہیں عنقریب بدلہ دیا جائے گا۔ اسی طرح حدیث نبوی ہے بے شک اللہ تعالی کے ننانوے نام ہیں جنہوں نے ان ناموں کو یاد کیا وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ اللہ تعالی کے ان ناموں کو وسیلے بنا کر مانگنے کی مثال ہمیں اسوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بارہا ملتی ہے ۔پیارے نبی اللہ کے ناموں کے وسیلے سے اس طرح دعا کیا کرتے تھےاَسْاَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ ھُوَ لَکَ سَمَّیْتَ بِہٖ نَفْسَکَ اَوْ عَلَّمْتَہٗ اَحَدًا مِنْ خَلْقِکَ اَوْ اَنْزَلْتَہٗ فِیْ کِتَابِکَ اَوِ اسْتَاْثَرْتَ بِہٖ فِیْ عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ ۔ اے اللہ! میں تیرے ہر اس نام کے واسطے سے تجھ سے سوال کرتا ہوں، جو تو نے اپنی ذات کے لئے پسند فرمایا، یا اپنی کتاب میں نازل فرمایا، یا اپنی مخلوقات میں کسی کو سکھادیا یا اسے اپنے خزانۂ غیب میں مخفی رکھا۔ اللہ انسان کو جن طریقوں سے آزماتا ہے وہ اس کی صحت،مال اور اولاد ہے اس آزمائش کے دوران

اللہ چاہتا ہے کہ انسان ایسے موقعوں پر اس کو پکارے تاکہ وہ نہ صرف ان کی مدد کرے بلکہ اس کو دور بھی کرے ۔اللہ کی ذات انتہائی جلیل القدر ہے۔ وہ کبھی انسان کو مال دے کر آزماتا ہے کہ مال ملنے کےبعد اس انسان کے رویۓ میں غرور تو نہیں آگیا۔ اور کبھی مال نہ دے کر آزما تا ہے کہ کہیں بندہ اس آزمائش کے وقت اللہ کے علاوہ کسی اور کو سہارا تو نہیں بنا رہا۔ اسی لۓ بڑوں کا یہ کہنا ہے کہ ہر صورت میں الحمد للہ کہنا اپنا وطیرہ بنا لینا چاہۓ ۔تاکہ اپنے رب کے شکر گزار بندے بن سکیں ۔ اس کے علاوہ یا غنی کا ورد کرنے سے بھی انسان کی ضروریات کی تکمیل ہوتی ہے۔یا حی یا قیوم بھی اللہ کے ناموں میں سے وہ اسم اعظم ہے جو نہ صرف پریشانیوں کے خاتمے کا سبب بنتا ہے اس کے ساتھ ساتھ رحمتوں کا باعث بھی ہوتا ہے ۔بڑوں کا کہنا ہے کہ تندرستی ہزار نعمت ہے اور ٹھیک ہی کہنا ہے بغیر صحت کے زندگی ایک دیمک لگے دروازے کی طرح ہوتی ہے جو کسی وقت بھی گر سکتی ہے۔ ایسے حالات میں اللہ کا سب سے پہلا حکم ہی یہ ہے کہ اپنے معالج کی طرف رجوع کرو اور پھر علاج کے ساتھ ساتھ اللہ کو بھی پکارو احادیث سے ہہاں تک ثابت ہے کہ اللہ بیمار بندے کے نہ صرف گناہ معاف کرتا جاتا ہے اس کے ساتھ وہ اس کی دعائیں جلدی قبول کرتا ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.