فطرانہ کب ادا کرنا ہے ؟ فطرانہ کیوں ادا کیا جاتا ہے ؟

فطرانہ ایک زکاۃ یا صدقہ ہے جورمضان المبارک کے روزے ختم ہونے پرواجب ہوتا ہے ، اورزکاۃ کی فطر کی طرف اضافت اس لیے ہے کہ یہ اس کے واجب کا سبب ہے ۔ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ دار کے روزہ کولغو اوربے ہودگی سے پاک صاف

کرنے اورمساکین کی خوراک کے لیے فطرانہ فرض کیا ، لھذا جس نے بھی نماز عید سے قبل ادا کردیا تویہ فطرانہ قبول ہوگا ، اوراگر کوئي نماز عید کے بعدا ادا کرتا ہے تو اس کے لیے یہ ایک عام صدقہ ہوگا ۔عمربن عبدالعزيز اور ابوالعالیۃ رحمہم اللہ تعالی سے مروی ہے کہ ان دونوں نے کہا اس سے مراد یہ ہے کہ اس نے فطرانہ ادا کیا اور نماز عید کے لیے نکل گیا ۔فطرانے کے وجوب کا وقت رمضان المبارک کے آخری دن کے سورج غرب ہونے کے وقت ہے ، اس لیے جب رمضان المبارک کے آخری دن کا سورج غروب ہوتو فطرانہ واجب ہوگا ۔لھذا جس نے بھی سورج غروب ہونے سے قبل شادی کی یا پھر اس کے ہاں ولادت ہوئي ہو یا پھر اسلام قبول کرلے تواس کا بھی فطرانہ ہوگا ، لیکن اگر غروب شمس کے بعد ہوتو پھر فطرانہ لازم نہيں ہوگا ۔جوشخص چاند رات فوت ہوجائے اوراس پرفطرانہ ہو تو امام احمد نے اس کی صراحت کی ہے کہ اس پر فطرانہ واجب ہوگا ۔ دیکھیں المغنی جلد دوم فصل وقت وجوب زکاۃ الفطر ۔فطرانہ کس پر واجب ہے ؟فطرانہ ہر مسلمان پر واجب ہے ، ابن عمررضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو ہر آزاد اورغلام مذکر اورمؤنث اور چھوٹے بڑے بچے اوربوڑھے ہرمسلمان پر فرض کیا تھا ۔امام شافعی رحمہ اللہ تعالی بیان کرتے ہيں کہ نافع والی حدیث میں اس بات کی دلالت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صرف مسلمانوں

پر ہی فرض کیا ہے ، اوریہ کتاب اللہ کے بھی موافق ہے ، اس لیے کہ زکاۃ مسلمانوں کے لیے پاکی اورصفائي کا باعث ہے اورپھر پاکی اور صفائي مسلمانوں کے علاوہ کسی اورکے لیے نہيں ہوسکتی ۔تنگ دست پربلاخلاف فطرانہ فرض نہيں ۔۔۔ اورخوشحال اورتنگ دست کا اعتبار تووجوب کے وقت ہوگا ، لھذا جس کے پاس اپنی اوراپنے اہل وعیال کی عید کی رات کی خوراک سے زیادہ ہو اس پرفطرانہ فرض ہوگا اوریہ خوشحال ہوگا ، اوراگر کچھ بھی زائد نہ ہوتو اسے تنگ دست شمار کیا جائے گا اوراس حالت میں اس پر کچھ بھی فرض نہيں فطرانہ مسلمان اپنی اوراپنے عیال اوربیویوں اوران رشتہ داروں کی جانب سے اگر وہ ادا نہيں کرسکتے تو خود فطرانہ ادا کرے گا اوراگر وہ فطرانہ ادا کرنے کی استطاعت رکھتے ہوں تو بہتر اوراولی یہ ہے کہ وہ اپنا فطرانہ خود ہی ادا کریں کیونکہ اصل میں تووہ خود ہی مخاطب ہیں ۔ابن عمررضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو ہرمسلمان غلام اور آزاد اورمذکر ومؤنث اورچھوٹے بڑے اوربچے فطرانہ فرض کیا ، اوریہ حکم دیا کہ لوگوں کے نماز عید کےلیے جانے سے قبل ادا کریں ۔بے عقل اوربچے کی جانب سے اس کا ولی فطرانہ ادا کرے گا اوراسی طرح جو لوگ اس کی عیالت میں ہوں ان کا بھی وہی اس طرح فطرانہ ادا کرے گا جس طرح ایک صحیح اپنی جانب سےادا کرتا ہے ، اوراگر اس کی عیالت میں کوئي کافر ہو تو اس کا فطرانہ اس پرلازم نہیں کیونکہ اسے زکاۃ کی ادائيگی کے ساتھ پاک نہيں کیا جائے گا ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.