وارننگ ایسی عورتوں کے لیے جو عید کے دنوں میں بھی

روایا ت میں آتا ہے ہمارے آقا سرور کائنا ت ﷺ نے عورتوں کے لیے رنگ والی اشیاء پسند فرمائی ہیں۔ جن کی خوشبو نہ ہو۔ جبکہ مردو ں کےلیے خوشبو کو پسند فرمایا ہے۔ آج کا موضو ع ہے مہند ی کے بارے میں ۔ حضور اکرم ﷺ کا کیا فرمان ہے؟ اور اس کو عورتوں کےلیے پسند فرمایا ہے یا نہیں۔ آئیے ہم مہند ی لگانے اور

لگوانے کے عمل کو اسلامی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہ مہندی لگانا کیسا ہے۔ اسلام میں اس چیز کی اجازت ہے یا نہیں؟ اسلام میں مردوں کے لیا کیا حکم ہے۔ اس حوالے سے امام نووی ؒ المجموع میں فرماتے ہیں ہاتھوں اورپاؤں کو مہند ی کے رنگ میں رنگنا مشہو ر احادیث کی وجہ سے شادی شدہ عورتو ں کے لیے مستحق ہے۔ ان کا اشارہ ابوداؤد کی اس حدیث کی طرف ہے جس میں ذکر کیا گیا کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مہندی کے خزاب لگانے سے متعلق سوال کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ کیونکہ میرے پیارے محبو بﷺ اس کی بد بو نا پسند کرتے تھے ۔ ایک ترمذی کی روایت میں ہے۔ عمران بن حسین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ : مرد کی بہترین خوشبو وہ ہے جس کی مہک پھیلے اور اس کا رنگ چھپا رہے ۔ اور عورتوں کی بہترین خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو۔ اور خوشبو چھپی رہے ۔ ایک اور دوسری روایت میں یہ الفاظ کچھ اس طرح سے آتے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مردوں کی خوشبو

وہ ہے جس کی مہک پھیل رہی ہو اور رنگ چھپا ہوا ہو۔اور عورتو ں کی خوشبو وہ ہے جس کارنگ ظاہر ہو لیکن مہک اس کی چھپی ہوئی ہو۔ اس کامطلب یہ ہے کہ مرد ایسی خوشبو لگائیں جس کی بو ہو اور رنگ نہ ہو۔ جیسے عطر اور عود وغیر ہ ۔ اور عورتیں ایسی خوشبو لگا ئیں جس کا رنگ ہو مگر خوشبو نہ ہو۔ مثلاً زعفران اور مہند ی وغیرہ ۔ یا درہے ! مہندی ایسی ہی چیز ہے جس کار نگ تو ہوتا ہے لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی ۔ اس لیے اس کو عورتو ں کےلیے پسند کیا گیا ہے۔ یا در ہے کہ مہندی اور خزاب میں فرق ہے خزاب کو ناپسند کیا گیا ہے۔ جہاں تک بات ہے مہند ی کی ۔ یادرہے ! مہندی سے ہاتھ پاؤں رنگنا عورتوں کی زینت ہے۔ مردوں کو ایسی زینت سے منع کیاگیا ہے۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک ایسا ہیجڑہ لایا گیا جس نے اپنے ہاتھوں پاؤں پر مہند ی لگا رکھی تھی رسول اللہ ﷺ نے پوچھا اس نے ایسا کیوں کیا ہے عرض کیاگیا یارسول اللہﷺ اسی طرح یہ عورتو ں سے مشابہت اختیار کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ : اسے مدینے کی آبادی سے نکال کر نقیقے کے علاقے میں چھوڑ آؤ۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم اسے ق تل نہ کردیں۔ تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا مجھے نمازی حضرات کو ق تل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.