مکہ کے بازار میں ایک غریب بوڑھا آ دمی ایک حسین و جمیل لڑکی کا ہاتھ پکڑے پکا ر رہا تھا

محمد بن حسین بغدادی ؒ فر ما تے ہیں کہ میں ایک سال حج کو گیا اتفاق سے مکہ کے بازار سے گزر رہا تھا ایک بوڑھا آ دمی ایک لڑکی کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھا لڑکی کا رنگ متغیر ہو رہا تھا بدن بہت لاغر لیکن اس کے چہرے پر ایک نورانی چمک تھی وہ بوڑھا پکا رہا تھا کہ کہ کوئی لڑکی کا خریدار ہے کوئی ہے جو

اس کو پسند کر ے کوئی ہے جو بیس اشرفیوں سے اس کی قیمت زیادہ دے اس شرط پر کہ میں اس کے ہر عیب سے بری ہوں میں نے شیخ کے قریب جا کر پو چھا اس بندی کی قیمت کا حال تو معلوم ہو گیا۔ اور اپنی قیام گاہ پر گیا میں نے اس کو دیکھا کہ وہ زمین کی طرف سر جھکا کر بیٹھی ہے پھر اس نے سر اٹھا یا اور کہنے لگی میرے چھوٹے آقا آپ کا وطن کہا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کر ے میں نے کہا عراق ہے لڑکی کہنے لگی کون سا عراق بصرہ یا کوفہ میں نے کہا دونوں میں نہیں کہنے لگی تو کیا آپ بغداد کے رہنے والے ہیں میں نے کہا ہاں۔۔ کہنے لگی واہ تو عابدوں اور زاہدوں کا شہر ہے مجھے تعجب ہوا کہ یہ بندی ایک کوٹھی سے دوسری کوٹھی والی عورت ہے اس کو عابدوں اور زاہدوں کی کیا خبر، میں نے اس سے دل لگی کے طور پر پو چھا کہ تو ان میں سے کن کن عابدوں کو جانتی ہے کہنے لگی ما لک بن دینار رحمتہ اللہ علیہ کو محمد بن حسین بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کو میں نے اس سے پو چھا کہ تجھے ان سب کا حال کس طرح معلوم ہوا۔ کہنے لگی اے نوجوران ان کو

کیسے نہ جا نو اللہ کی قسم یہ لوگ دلوں کے طبیب ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو عاشق کو معشوق کا راستہ بتا تے ہیں۔ پھر اس نے چار شعر پڑھے جس کا ترجمہ یہ ہے یہ قوم وہ لوگ ہیں جن کی فکر اللہ کے ساتھ وابستہ ہو گئے پس ان کے لیے کوئی فکر ہی کسی اور کا نہیں رہا ان لوگوں کا مقصد صرف ان کا مولیٰ اور ان کا سردار ہے کیا ہی ایک بہترین مقصد ہے جو صرف ایک بے نیاز ذات کے واسطے ہے نہ تو دنیا ان سے الجھتی ہے اور نہ کھا نوں کی عمدگی ، نہ دنیا کی لذت، نہ ان کی اولاد، نہ ان سے اچھا لباس سے جھگڑتا ہے۔ نہ تعداد کی کثرت اس کے بعد میں نے کہا کہ اے لڑکی میں محمد بن حسین ہی ہوں کہنے لگی میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ تم سے کہیں میری ملا قات ہو جا ئے۔ تمہاری وہ دلکش آواز کیا ہو ئی جس سے تم تمام مر ید ین کے دلوں کو زندہ کیا کر تے تھے اور سننے والوں کی آنکھیں بھر جا یا کر تی تھی میں نے کہا بحالہ موجود ہے کہنے لگی اللہ کی قسم مجھے کچھ قرآن پاک سنا دو میں نے بسم اللہ الر حمن الر حیم پڑھا تو اس نے بہت زور سے ایک چیخ ماری اور نے ہوش ہو گئی میں نے اس پر پانی چھڑکا جس سے اس کو افاقہ ہوا۔ تو کہنے لگی جس کے نام کا یہ اثر ہے اگر میں اس کو پہچان لو اور جنت میں اس کو دیکھ لوں تو کیا حال ہو گا۔ پھر کہنے لگی اچھا پڑھئے اللہ جل شانہ آپ پر رحم کرے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *