صبح اُٹھتے ہی یہ کلمات 7بار پڑح لینا رزق کی برسات ہوگی دولت آپکا دروازہ نہیں چھوڑے گی

حضرت امام حسن مجتبیٰ ؓ جو سیدہ طیبہ طاہرہ حضرت فاطمہ ؓ کے نور نظر ہیں حضرت امام حسین ؓ کے بڑے بھائی جان ہیں۔ ایک شخص حضورﷺ کی بارگاہ میں آیا اور بار ش نہ ہونے کی شکایت کی۔آپ ﷺ نے اسے فرمایا کہ استغفار پڑھا کر ایک دوسرا شخص آیا تو اس نے عرض کی رزق کی بہت ہی تنگی ہے تو نبی پاکﷺ نے

فرمایا استغفار کیا کر۔ربی بن صبی ؓ وہاں حاضر تھے ان کا بیان ہے کہ چند لوگ آئے اور قسم قسم کی حاجتیں بیان کیں سب ہی کو آپﷺ نے ایک ہی جواب دیا کہ استغفار کیا کرو ۔ انہوں نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ مختلف لوگ لیکن ایک ہی جواب دیا استغفار کا تو نبی کریمﷺ نے فرمایا جو شخص استغفار کو لازم پکڑے ۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر غم سے نجات اور ہر تنگی سے چھٹکارے کا سامان کردیتا ہے اور ایسے مقام روزی عطاء فرماتے ہیں جہاں سے وہم وگمان ہی نہیں ہوتا۔حضرت نوح ؑ نے کہے تھے کہ اے میری قوم استغفار کیا کرو اللہ تعالیٰ تم پر نعمتوں کی برسات کرے گا۔ استغفار ہی ایسا عمل جس سے آپ فکروفاقہ سے نکل سکتے ہیں آپ اللہ کے حکم سے فکر وفاقہ کی زندگی مبتلا ہیں تو انشاء اللہ نکل جائیں گے ۔ آپ نے صبح کے وقت یہ کلمات پڑحیں گے تو انشاء اللہ رب کے حکم سے آپکو دین دنیا کی عظمتوں سے مالا مال فرما دیں گے ۔ صبح اُٹھتے ہی آپ نے سات مرتبہ پڑھنے ہیں وہ کلمات کونسے بتاتے ہیں جب آپ صبح اُٹھیں بستر سے تو آپ نے استغفراللہ اور یا حیُ یا قیوم اول

وآخر ایک ایک مرتبہ درود شریف اور درمیان میں یہ کلمات کو ایک تصور کرکے پڑھنے ہیں۔ ہاتھوں پر دم کرکے دل پر چہرے پر یا کمرے میں پھونک مار دیں۔ اس عمل سے اللہ کریم آپ کو بے تحاشہ رزق عطاء فرمائیں گے۔ ”استغفار“ کا کوئی خاص طریقہ شریعت میں متعین نہیں ہے، جب موقع ملے احادیث میں وارد استغفار کی دعاوٴں کے ساتھ یا اپنے الفاظ میں اللہ تبارک وتعالی سے استغفار یعنی مغفرت طلب کرسکتے ہیں؛ البتہ خصوصیت کے ساتھ پنجوقتہ نمازوں کے بعد تین مرتبہ ”استغفر اللہ“ کہنے کا معمول بنائیں، یہ سنت ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔استغفار ایک ایسا عمل ہے جس پر وعدئہ خداوندی ہے کہ امت عذاب سے محفوظ رہے گی، آج ہم جو طرح طرح کے عذابات کا شکار ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے معافی اور استغفارنہیں کرتے ، کیونکہ ا گر ہم گناہوں کے بعد سچے د ل سے استغفار کرتے رہتے تو ہم اس طرح کے پریشان کن حالات سے ہرگز دوچار نہ ہوتے، کیونکہ قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے: ”وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم وما کان اللہ معذبہم وہم یستغفرون۔“ (الانفال:۳۳)ترجمہ: ۔”اور اللہ تعالی ہرگز نہ عذاب کرتا ان پر جب تک تو رہتا ان میں اور اللہ ہرگز نہ عذاب کرے گا ان پر جب تک وہ معافی مانگتے رہیں گے ۔“

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *