حضرت علی ؓ نے فر ما یا ستائیس رمضان نمازِ عشاء کے بعد یہ چھوٹی سی سورۃ پڑھ لینا انشاء اللہ پھر مقدر بدل جا ئے گا۔

اس مہینے کی جو طاق راتیں ہیں اس کی حدیثِ مبارکہ کے اندر بہت بڑی فضیلت ہمیں ملتی ہے۔ آپ ﷺ نے فر ما یا کہ لیلۃ القدر کو بھی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ اور ان راتوں میں اپنے لیے دعائیں مانگو اللہ تعالیٰ سے جب بھی عاجزی کے ساتھ رو رو کر گڑ گڑا کر دعا مانگی جا ئے اللہ عزوجل ضرور پوری فر ما تے ہیں لیکن

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کی اُمت پر ا ن کی بخشش اور مغفرت کے لیے کچھ دن کچھ راتیں کچھ ایام کچھ گھڑیاں ایسی مقرر کر دی ہیں کہ جس میں اللہ کی رحمت عام ہو تی ہے اور اس کی رحمت کا تقاضا ہو تا ہے کہ وہ بندوں کے قصور معاف کر دیتا ہےو ہ بندوں کے ج رم معاف کر دیتا ہے۔ ہم سب اللہ تعالیٰ کے ہاں قصور وار ہیں ہم اللہ کے ہاں سارے ک سارے گ ن ا ہ گار ہیں بحیثیت ِ انسان ہونے کے ناطے ہم سے بہت غلطیاں ہو جا تی ہیں کئی قسم کے ج رم ہو جا تے ہیں انجانے میں ایسے ایسے ج رم کر بیٹھتے ہیں جس کو ہم اس وقت سمجھتے بعد میں احساس ہو تا ہے کہ بہت بڑی غلطی بہت بڑا گ ن ا ہ ہو گیا ہے اس لحاظ سے ہم سب کے سب مج رم ہیں آج اگر ہم پر گ ن ا ہ وں کا مقدمہ ڈالا جا ئے تو ہم ہار جا ئیں گے اس مبارک رات میں یہ جو طاق رات کہلاتی ہے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے

مروی ہے۔ کہ زیادہ اہتمام لیلہ القدر کی ستائیسویں شب کو ہے اس رات میں ہم نے سب سے پہلے رحم کی اپیل کر نی ہے جو بندہ قصور وار ہو تا ہے ج رم کر بیٹھتا ہے ۔ پھر وہ رحم کی اپیل کر تا ہے اور اس رحم کی اپیل میں ہم اللہ سے معافی مانگتے ہیں اس لیے کہ ہم مقدمے میں تو ضرور ہار جا ئیں گے یہ گ ن ا ہ وں کا کیس اگر ہم پر چل گیا کا میابی نہیں ہو گی اللہ کی بارگاہ میں رحم کی اپیل دائر کر دیں اب رحم کی درخواست دائر کر دیں اور اس اپیل کے اندر سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اگر کسی کے خلاف دل میں کینہ ہے بغض ہے۔ اپنے دل کو صاف کر دیں اگر کسی کے اندر ش رک کا کوئی معاملہ پایا جا تا ہے تو اس سے توبہ کر لیں اگر کوئی والدین کا نا فر مان ہے اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو لیکن اگر کوئی ہے تو وہ اپنے والدین سے معافی مانگے اللہ سے معافی مانگ لے اور اس کے بعد رحم کی اپیل کر لے اور رحم کی اپیل کرنے کے ساتھ ساتھ اس پوری رات کے اندریہ جو مبارک رات ہے فضیلت والی رات ہے جس میں دعائیں کثرت کے ساتھ قبول ہو تی ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.