اگر زندگی میں بڑھنا ہے تو تین باتیں سیکھ لو ؟

اگر زندگی میں آگے بڑھنا ہے تو اکیلے رہنا ، اکیلے لڑنا اور اکیلے جینا سیکھو وقت پڑنے پہ یہ دنیا کسی کی نہیں بنتی۔سچے رشتے وہ ہیں جو نبھائے جاتے ہیں آزمائے نہیں جاتے اورلوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑا جاتا ہے توڑا نہیں جاتا۔اگر آپ کو کوئی آپ کی قدر کرنے والا مل جائے ، تو اس کی قدر کرنا، آج قدر کرنے والے

تلاش کرنے سے بھی نہیں ملتے اور استعمال کرنے والے خود آپ کو تلاش کر جاتے ہیں ۔کسی اپنے کی جدائی میں دوسروں کو تسلی دینا تو بہت آسان ہے لیکن جب ہم سے ہمارے اپنے جدا ہوتے ہیں تب صبر کرنا مشکل نہیں بلکہ محال ہوجاتا ہے۔اگر آپ زندگی کی ہر ج ن گ میں کامیابی چاہتے ہیں تو برداشت کرنا اور صبر کرنا سیکھیں ، یہ وہ ہتھیار ہے جو ہر دشمن کو شکست کا راستہ دیکھا دیتا ہے۔خدا بھول چکا زندگی کی آزمائش بن گئی دعائیں قبول نہیں ہوتی پوچھا: نماز فجر پڑھتے ہو؟ بولا آنکھ نہیں کھلتی۔جب نماز میں غلطی ہوتی ہے تو اللہ کریم نے سجدہ سہو کرنے کو کہا ہے غور تو کریں نماز میں یہ طریقہ کار ہمیں کیا سیکھا رہا ہے ؟ جب بھی غلط ہو تو قبول کرو اور سجدے میں چلے جاؤ۔وہ مٹادے گا تمہارے گ ن ا ہ اور ان کو حسنات میں بدل دے گا۔زندگی میں جب کبھی کوئی ٹھوکر لگے تو اپنے دل کا حال اپنے دل میں دفنادیا کرو ، کسی دوسرے کو کبھی دل کا حال مت بتانا یہ دنیا ہے ، جو تماشا بنانے میں ذرا بھی دیر نہیں کرتی۔حضرت جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک اعرابی نے (کہیں سے) آکر اپنے اونٹ کو بٹھایا پھر اُسے ٹانگ سے باندھ کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے

پیچھے نماز پڑھنے چلا گیا، جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو اُس نے اپنے اونٹ کے پاس آکر اس کی رسی کو کھولا۔ پھر اُس پر سوار ہو کر دعا کرنے لگا: یا اللہ! تو مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحم فرما اور ہماری رحمت میں کسی اور کو شریک نہ کر۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (یہ سن کر صحابہ سے) فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ زیادہ گمراہ ہے یا اُس کا اونٹ؟ کیا تم نے سنا نہیں کہ اُس نے کیا کہا؟ اُنہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں (یا رسول اللہ! ہم نے سنا ہے۔) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اُس اعرابی سے) فرمایا: تُو نے (اللہ تعالیٰ کی رحمت کو) تنگ کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت بڑی وسیع ہے، اللہ تعالیٰ نے کل سو رحمتوں کو تخلیق کیا جن میں سے اللہ تعالیٰ نے ایک رحمت (زمین پر) اُتاری، مخلوقات میں سے جن و انس اور بہائم (درندے) اُسی کی وجہ سے باہم شفقت و مہربانی کرتے ہیں جبکہ ننانوے رحمتیں اُس کے پاس ہیں۔ اب تم کیا کہتے ہو کہ یہ زیادہ گمراہ ہے (جسے رحمتِ الٰہی کی وسعت کا علم نہیں) یا اُس کا اونٹ (جو اس کے ماتحت ہے)۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.