یہ آٹھ چیزوں کی کمی بالوں کو تباہ کر تی ہے

بالوں کی مضبوطی ، ان کا تیزی سے لمبا اور گھنا ہونا ہر ایک کی ہی چاہت ہے اور اس چاہت کو لیے آج ہر انسان اس معاشرے میں گھوم رہا ہے ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کے بال نہایت ہی خوبصورت ہوں اور اس کے بال دوسروں سے نا یا ب ہوں کیو نکہ ہر انسان خود کو دوسروں پر آج کل کے دور میں اہمیت دینے کی کوشش

کر رہا ہے جیسا کہ آپ سب کو علم ہے کہ ہمارے بال ہماری شخصیت میں نکھار پیدا کرتے ہیں اگر ہمارے بال بہت ہی زیادہ اچھے ہیں سلکی ہیں چمک دار اور اس کے ساتھ ساتھ لمبے بھی ہیں تو ہماری شخصیت میں مزید نکھار پیدا ہو جاتا ہے اور اگر بال ہمارے روکھے ہوں، خشکی کے مارے ہوں اور ان میں روکھا سو کھا پن ہو تو انسان بہت ہی زیادہ برا لگتا ہے۔ پھر چاہے وہ کوئی سا بھی لباس پہن لے اس میں کشش پیدا نہیں ہو سکتی کیو نکہ اس کے بال بہت ہی زیادہ خراب ہو چکے ہوئے ہوتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ اگر ہمیں اپنی شخصیت کو نکھارنا ہے تو سب سے پہلے اپنے بالوں کو نکھا ریں اپنے بالوں کو مضبوط کر یں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے بالوں پر توجہ دیں تا کہ ہمارے بالوں کو لے کر ہماری کوئی بھی کسی قسم کی بھی مشکل ہے وہ دور ہو سکے۔ کیونکہ بالوں سے ہی انسان کی شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔ بالوں کی جڑوں تک سب سے اچھے طریقے سے وہی پہنچتا ہے جو کہ ہم کھاتے ہیں یا پھر اپنے بالوں کی جڑوں میں لگاتے ہیں ۔ اس لیے

ان دونوں کا ہونا بہت ہی ضروری ہے دراصل ہم جو بھی کھاتے ہیں وہ ہمارے پیٹ سے ہو کر ہماری چھوتی آنت میں پہنچتا ہے اور خون میں پہنچ کر ہمارے بالوں کی جڑوں تک اور پورے جسم میں پھیل جاتا ہے اس لیے ہماری کوئی بھی کھانے والی کا اثر جو ہے ہمارے بالوں پر ضرور ہو تا ہے پھر چاہے ہم وہ اچھی غذا لے رہے ہیں یا پھر صحت کو نقصان پہچانے والی غذائیں کھا رہے ہیں کیو نکہ بالوں کی نشو و نما کے لیے ہماری خوراک بھی بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس لیے ہمیں جو بھی کھا نا چاہیے بہت ہی زیادہ سوچ سمجھ کر کھا نا چاہیے تا کہ اس سے ہمیں فائدہ ہو سکے۔ نہ کہ نقصان ہو ۔ بال جلد اور پورے جسم پر دونوں طرح سے ہو سکتا ہے چاہے وہ اچھے ہیں چاہے وہ برے ہیں۔ ویسے تو بالوں کا جھڑنا اور وقت سے پہلے سفید ہو جا نا وراثتی بھی ہو سکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اگر بال جھڑ رہے ہیں تو اسے بیماری کی علامت بھی کہا جاسکتا ہے کیو نکہ جب ہمارے جسم میں وٹامنز کی کمی ہوتی ہے تو ہمارے بال جو ہیں وہ بہت ہی زیادہ کمزور ہو جاتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *