تین سیکنڈ میں تین ارب نیکیاں

یاد رہے کہ دوسروں کیلئے خیر خواہی کرنا اور دوسروں کیلئے دعائیں مانگنا یہ ایسا عمل ہے جوکہ اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ پسند ہے جب بندہ دوسروں کے اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے تو پہلے اللہ تعالیٰ اس بندے کو دیتا جو دعا مانگ رہا پھر دوسرے بندے کو دیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے بھی خوب مانگا اور دوسروں کیلئے بھی مانگا

جائے اللہ تعالیٰ مانگنے والوں سے خوش ہوتا ہے اور مانگنے والے کو عطاء بھی کرتا ہے ۔ آج ہم آپ کو بتانے جارہے ہیں وہ عمل پیاری سی دعاکا عمل ہے جس میں بندہ اپنے لیے اور تمام مردوں اور عورتوں کیلئے دعا کرتا ہے اور جس دعا کی ہم بات کررہے ہیں وہ یہ ہے ۔ الھم اغفر للمومنین والمومنات والمسلمین والمسلمات۔جس کا ترجمہ یہ ہے تو میری اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کی بخشش فرما اور مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کی بخشش فرما۔ جیساکہ آپ ﷺ کا ارشاد موجود ہے کہ جو مسلمان مردوں اور مسلمانوں عورتوں کیلئے استغفا ر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے حساب میں تمام مسلمان مرد اور مسلمان عورتوں کے برابر ایک ایک نیکی لکھ دیتا ہے ۔ کتنی بڑی فضیلت ہے ۔ جو کلمات ہیں نہایت ہی آسان ہیں جس کو کرنے میں مشکل سے تین سے پانچ سیکنڈ لگتے ہیں اور اس کا اجر عربوں نیکیوں کے برابر ہے ۔ پھر دیکھ لیں دنیا میں کتنے مرد اور عورتیں موجود ہیں ٹوٹل کہ سات ارب ہیں اور تین عرب تو مسلمان ہوں گے اسی لیے اس عمل کے بارے میں فرمایا

اس ایک عمل سے جو کہ بہت مختصر ہے اس کا اجر اربوں نیکیاں ہیں اگر تین ارب مسلمان ہیں تو اس دعا کے مانگنے سے آپ تین سیکنڈ میں تین ارب نیکیاں کماسکتے ہیں ۔آپ کو بتاتے چلیں کہ احادیث میں انسان کے اس عمل کو بہت پسندیدہ عمل قرار دیا گیا کہ جب انسان دوسروں کیلئے دعا کرتا ہے تو اس کی دعا پر فرشتے بھی وہی دعا کرتے ہیں ۔ اوریہ فرشتے سے اپنے دعا کرانے کی بہت بڑی تدبیر ہے ۔ جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا پیٹھ پیچھے مسلمان بھائی کی دعا قبول ہوتی ہے کہ اس کے پاس ایک فرشتہ دعا کرنے والے کے سر کے پاس مقرر ہوتا ہے جب کوئی مسلمان کسی مسلمان بھائی کیلئے دعا کرتا ہے ۔ تو فرشتہ اس پر آمین کہتا ہے کہ یوں کہتا ہے کہ مسلمان کے حق میں جوتونے دعا کی ہے توتیرے لیے بھی اس جیسی ہی نعمت ودولت کی خوشخبری ہے ۔بروایت مسلم شریف ۔ اور جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کیلئے خیر وفلاح کی کوئی دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فرشتے کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے بندے یہی چیز اللہ تعالیٰ تجھے بھی عطاء فرما دے ۔ ایک اور دوسری

روایت میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں پہلے تجھ سے شروع کروں گا تم جو دعائیں دوسروں کیلئے مانگ رہے ہو وہ سب دعائیں میں تمہارے حق میں قبول کروں پہلے تمہیں دوں گا اس سے بہتر اور نسخہ کیا ہوسکتا ہے ۔ ایک مسلمان دوسرے بھائی کیلئے دعا کرے اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کیلئے بھی وہی عطاء کرتا ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس قدر مہربان ہے کہ جب وہ دوسروں کیلئے مانگتے ہیں نہ صرف دوسروں کیلئے وہ دعائیں قبول کی جاتی ہیں ۔ جس کیلئے مانگتا ہے بلکہ اس کو بھی اللہ تعالیٰ محروم نہیں کرتا ۔ مذکورہ دعا میں بھی بندہ جب تمام مسلمین اور مسلمات کیلئے دعائے مغفرت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس بندے سے خوش ہوتے ہیں اور بدلے اس کو نیکیاں عطاء فرماتے ہیں۔ ایسی دعاؤں اپنی دعاؤں کا لازمی حصہ بنایا جائے جن میں دوسروں کیلئے بھی دعا شامل ہو ۔ یاد رہے کہ قرآن پاک کا لازمی غور کیا جائے تو قرآن پاک میں ایسی کئی دعائیں موجود ہیں اللہ تعالیٰ نے بندے کو یہ باور کرایا ہے کہ اپنے ساتھ

ساتھ باقی دوسرے لوگوں کیلئے دعا مانگنی چاہیے ۔ حضرت نوح ؑ کی دعا ہے کہ میرے پروردگار میری بھی بخشش فرمادیجئے میرے والدین کی بھی اور ہر اس شخص کی بھی جو میرے گھر میں ایمان کی حالت میں داخل ہوا او ر تمام مومن مردوں او ر مومن عورتوں کی بھی ۔ یہ حضرت نوحؑ کی دعا ہے جو انہوں نے اپنے اپنے والدین اور تمام مؤمنین اور مؤمنات کیلئے مانگی تھیں سب سے پہلے اپنے لیے دعا کی تاکہ یہ ظاہر ہو کہ انسان سب سے زیادہ خود اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا محتاج ہے پھر اپنے والدین کیلئے دعا کی کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بعد انسان پر سب سے زیادہ احسان اسکے والدین کا ہے ۔ والدین کی وفات کے بعد انکے مغفرت کی دعا کرنا انکے لیے احسان کرنا ہے ۔ اس کے بعد تمام مؤمنین کی دعا کی ۔ ساتھ ہی انہوں نے مؤمنوں مردوں اور عورتوں کیلئے بھی دعا کیا۔ اور دعا کا طریقہ بھی سکھا دیا کہ مغفرت کی دعا کن الفاظ میں بھی مانگی جائے یہ بھی بتا دیا دعا میں خود غرضی یعنی اپنی ذات کیلئے دعا نہ ہو۔شکریہ

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *