پندرہ سولہ سترہ رمضان کریم کا وظیفہ۔ تمام حاجات پوری۔

آج ہم جس عمل وظیفے یا ورد کے حوالے سے بات کریں گے وہ پندرہ سولہ سترہ رمضان کو کیے جانے والا ایک بہت ہی خاص عمل ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ رمضان کا دوسرا عشرہ ہے وہ جاری ہے مغفرت کا عشرہ ہے اللہ کے حضور اپنے گ ن ا ہ وں کی بخشش کر وائیں صغیرہ کبیرہ گ ن ا ہ وں کی معافی مانگیں

اللہ کے حضور رو رو کر اپنی غلطیوں کی معافی کے طلب گار ہوں ایک دفعہ جبرائیل ؑ نے فر مایا کہ ہل اک ہو جا ئے وہ شخص جس کو رمضان کا مہینہ نصیب ہو اور وہ اپنی بخشش نہ کروا سکے اس پر ہمارے اور آپ کےپیارے آقاﷺ نے فر ما یا آمین۔ تو اپنے آپ کو اس بد دعا میں مت شامل کر یں ۔ جس کی وجہ سے بد نصیبی اور جہ نم کے آخری درجے پرپہنچ جا ئیں ۔ اپنے آپ کو بخشش کے طلب گار ہوں گ ن ا ہ وں کی بخشش کے طلب گار ہوں گ ن ا ہ وں کی معا فی مانگیں جتنا ہو سکے عبادا ت کر یں اور اللہ کے حضور اونچا مقام پا لیں اپنے گ ن ا ہ وں کی بخشش کے طلب گار ہوں اور خود سے یہ عہد کریں کہ وہ گ ن ا ہ نہیں کر یں گے آج کا عمل پندرہ سولہ سترہ رمضان کو کیے جانے والا ایک خاص عمل ہے اس عمل کے مقصد کرنے کا یہ ہے کہ ہر جا ئز حاجت پوری ہو گی ہر مراد پوری ہو گی ۔ اس کی رحمتیں اور بر کتوں کی وجہ سے اللہ پاک آپ کو کا میابی نصیب کر ے گا کو ئی بھی حاجت ہو وہ نیک رشتے کی ہو اپنی پسند کی شادی

کی ہو امتحان میں کا میابی کی ہو رزق میں اضافے کی ہو بے روزگاری ختم کرنے کی ہو کاروبار کی تنگی دور کرنے کی ہو نیک اور صالح اولاد کی خواہش ہو انشاء اللہ وہ اللہ کے حکم سے پوری ہو گی عمل کی اجازت عام ہے ہر عام و خاص شخص یہ عمل کر سکتا ہے اس کے لیے خصوصی اجازت نہیں ہے عمل خاص طور پر تہجد کے وقت کر نا ہے رمضان چل رہا ہے سحری کے لیے ہر شخص اُٹھتا ہے پندرہ بیس منٹ جلدی اُٹھ کر یہ وظیفہ کر لیں۔ انشاء اللہ اللہ مدد فر ما ئے گا عمل اللہ کے نام الو ھابُ پر مشتمل ہے جس کے معانی ہیں بہت زیادہ عطا کرنے والا تہجد کی نماز ادا کرنے کے بعد دو رکعت حاجت پڑھنی ہے اور حاجت پڑھنے کے بعد تین تسبیح یا وھابُ کی سجدے میں جا کر اس طرح کر نی ہے کہ ہر سجدے میں آپ نے سو سو مر تبہ یا وھابُ پڑھنا ہے اور اپنے ہاتھ کی جو ہتھیلیاں ہیں ہاتھ سیدھا رکھنا ہے اور سو مر تبہ سجدے میں یا وھابُ پڑھیں گے اُٹھ کر اللہ کے حضور دعا کر یں گے پھر دوبارہ سجدے میں جا ئیں گے اسی طرح ہاتھ رکھیں گے اور سو مر تبہ یا وھابُ پڑھیں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *