سونف کھانے والے ضرور پڑھیں صرف ایک چمچ لکڑ ہضم پتھر ہضم

سونف ایک جانی پہچانی خوراک ہے۔ پیٹ کی تکالیف ہاضمے کی خرابیوں وغیرہ کے لئے اسے بہ کثرت استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے اس مقصد کے لئے اکثر لوگ پان میں ڈال کر کھاتے ہیں۔ اس سے فائدے کے لئے ضروری ہے کہ اسے اچھی طرح چبا کر اس کا لعاب اور پیگ نگل لیا جائے۔ سونف

منہ کو خوشبودار بناتی ہے۔ انگریزی میں اسے فینل اور اینی سیڈ بھی کہتے ہیں۔ اس کو عربی میں راز یا نج اور فارسیمیں بادیان کہتے ہیں۔ عرق بادیان بھی کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ قرون وسطی میں سونف کے کھانوں کوخوشبودار بنانے اور کیڑے وغیرہ سے محفوظ رکھنے کے لئے بہ کثرت استعمال کیا جاتا ہے۔ خیال تھا کہ اسے شامل کرنے سے باسی کھانے خراب اور مضر ثابت نہیں ہوتے۔16 ویں صدی کا ماہر جیرارڈ اسے بینائی بڑھانے کے لئے بہت مفید قرار دیتا تھا جب کہ دوسرا ماہر عقاقیر کلپیر سونف کو سانپ یا کھمبی کے زہریلے اثرات دور کرنے کیلئے موثر قرار دیتا تھا۔ سونف (تخم بادیان) جسم کے نرم عضلات کے آرام دہ ثابت ہوتی ہے۔ اس کے استعمال سے ہضم کی صلاحیت بڑھتی ہے۔ سونف خاص طور پر غذا کے روغنی یا چربیلے اجزا ہضم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ چینی معالج لی۔ شین۔ چن نے اپنی کتاب پین لساؤ میں اسے خاص طور پر بچوں کے نظام ہضم کے لئے مفید لکھا ہے اس کے مطابق سونف پیٹ اور دانت کے درد کے لئے بھی مفید ہوتی ہے۔ یورپی ممالک میں لوگ سونف، بابونہ، سویا، دھنیا اور سنتے کے پوست کے جوشاندے کو ہاضمے کے لئے بہت مفید قرار دیتے ہیں۔ ایک مغربی محقق نے سونف کی پیشاب آور صلاحیت کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ سونف آلات بول، گردے مثانے کا ورم دور کرنے کے لئے بہت موثر ہوتی ہے۔ اسے باقاعدہ استعمال کرتےرہنے سے گردے، مثانے میں پتھری نہیں بنتی اور اگر بن بھی گئی تو اس کے استعمال

سے پتھری خارج ہوجاتی ہے۔ سونف دودھ پلانے والی ماؤں کے لئے بھی بہت مفید سمجھی جاتی ہے۔ اس کے استعمال سے دودھ کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ سونف میں زنانہ ہارمون، ایسٹروجن جیسی خاصیت بھی ہوتی ہے اس لحاظ سے یہ خواتین کے لئے بہت موثر ثابت ہوتی ہے۔ سن یاس کی تکالیف سے نجات کے لئے اطباء دیگر پیشاب آور دواؤں کے ساتھ سونفاستعمال کرتے ہیں۔ طب یونانی کی مشہور دوا شربت بزوری میں سونف کے بیج اور اس کی جڑ بھی شامل کی جاتی ہے۔ایک یورپی معالج جان ایولن نے اپنی کتاب ایسی تاریا میں سونف کی ٹہنیوں کے گودے کو موثر، مسکن اور خواب آور قرار دیا ہے۔ طب ہندی کے معالجین کے مطابق سونف کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے اور یہ ہاضمے کے لئے بہت موثر ثابت ہوتی ہے۔ سونف کے چبانے سے ثقیل کھانے آسانی سے ہضم ہوجاتے ہیں۔ سونف معدے کےعلاوہ جگر کے لئے بھی مفید ہوتی ہے۔ سینے اور معدے کی جلن کے لئے بھی اس کا استعمال بہت مفید ہوتا ہے۔ سونف پیشاب آور اور موثر حیض بھی ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لئے ہم وزن سونف اور گڑ کو پانی میں جوش دے کر نیم گرم پینے سے حیض کی بے قاعدگی دور ہوجاتی ہے۔ دوائی مقاصد کے لئے 5 سے 7 گرام سونف استعمال کرنا چاہیے۔ پیٹ کی ہر قسم کی تکلیف کے لئے پانی کے ساتھ چائے کا ایک چمچ پسی ہوئی سونف کا استعمال بہت موثر ثابت ہوتا ہے۔ عرق بادیان بچوں کیلئے موثر گرائپ واٹر ثابت ہوتا ہے۔ طب ہندی میں سونف کا استعمال بینائی کے تحفظ اور اضافے کے لئے مفید قرار دیا جاتا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *