سحری میں جب بھی آنکھ کھلے یہ عمل کریں جو بھی جانگیں گے فوری ملے گا

مسلمانوں کواللہ پاک نے ایک ایسامہینہ عطافرمایاجس میں عبادت کالطف وسروراور رب کی رحمت کی برسات بیمثال ہوتی ہے ۔رب ذوالجلال کے احسانات وانعامات لاتعداد ہیں لیکن ایک مہینہ ایساہے جس میں انعامات کی بارش کی کوئی انتہانہیں ہوتی۔ وہ مبارک مہینہ رمضان المبارک کاہے ،اس مبارک مہینہ میں مسلمان اپنے رب کوراضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور رب بھی اس مبارک ماہ کی

وجہ سے اپنے گ ن اہگ.اربندوں پہ رحمت کی چادر تان لیتاہے۔ ویسے تو تمام زمانے ، سال ، مہینے ، دن رات اچھی ساعتیں اور صدیاں سب اللہ تعالی کی ہیں ۔ تاہم رمضان المبارک کو اللہ تعالی نے خاص اعزاز اور فضیلت سے نوازا ہے ۔ رمضان میں ایک خاص روحانی اور جسمانی سر شاری اور کیفیت ہوتی ہے، اس مبارک ماہ کو قرآن مجید کے نزول اور روزے کا مہینہ قرار دے کر باقی مہینوں سے اعلیٰ اور ممتاز مقام عطا کر دیا ہے ۔ نبی پاکﷺ نے شعبان کے آخری جمعہ کے موقع پر خطبہ دیا وہ استقبال رمضان کے حوالے سے تھا ۔ رحمتِ دو عالم ﷺ نے فرمایا اے لوگو! تم پر ایک ایسا مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے اولہ رحمة ،واوسطہ مغفرة ،واٰخرہ عتق من النار جس کا اول حصہ رحمت اور درمیانہ مغفرت اور آخری حصہ جہنم سے آزادی کا ہے ۔ اور فرمایاکہ اِس مہینہ میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے اللہ نے اِ س مہینہ میں روزہ فرض کر دیا ہے جو شخص اِس مہینہ میں کوئی نیکی کر ے تو وہ دوسرے مہینہ میں فرض ادا کرنے کی مثل ہے اور جو شخص اِس مہینہ میں فرض ادا کرے تو وہ ایسا ہے جیسے دوسرے مہینہ

میں ستر فرض ادا کیے یہ صبر کا مہینہ ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں مومن کے رزق میں زیادتی کی جاتی ہے ۔ اس ماہ مبارک کی فضیلت وشان آمنہ کے لال عبداللہ کے دریتیم محبوب کبریاﷺ نے امت مسلمہ کوبتادی۔ جبرائیل ؑ کی تین دعائیں ایک مرتبہ نبی پاک ﷺ مسجدتشریف لائے اور خطبہ دینے کے لیے منبرمبارک کی سیڑھیوں پہ چڑھنے لگے ۔پہلی سیڑھی پر قدم مبارک رکھا تو باآواز فرمایا آمین !پھر جب دوسری سیڑھی پر قدم مبارک رکھا تو فرمایا آمین! پھر جب منبرِ رسول ﷺ کی تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو پھر فرمایا آمین ۔ صحابہ کرام ؓ آپ ﷺ کے باآواز آمین کہنے پر تھوڑے حیران تھے کہ آج رحمت عالم ﷺعام حالت سے ہٹ کر باآواز آمین کیوں کہہ رہے ہیں، تورحمت دوجہاں ﷺ نے فرمایا جب میں نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو میرے پاس فرشتوں کے سردار جبرائیل امین ؑ آئے اورتین دعائیں کیں جس کے جواب میں میں نے آمین کہا۔ جبرائیل امین نے کہا:اے سیدنا محمد ﷺ جس نے رمضان کو پایا اور اس کی بخشش نہیں کی گئی اللہ اس کو اپنی رحمت سے دور کر دے میں نے کہا آمین۔ پھر جبرائیل نے کہا جس نے اپنے ماں باپ

یا ان میں سے کسی ایک کو پایا اِس کے با وجود وہ دوزخ میں داخل ہو گیا یعنی ماں باپ کی خدمت کر کے جنت حاصل نہ کی اللہ اس کو اپنی رحمت سے دور کر دے۔ میں نے کہا آمین ۔ پھر جبرائیل بولے جس کے سامنے محبوب خدا ﷺ کا ذکر کیا جائے اور وہ آپﷺ پر درود شریف نہ پڑھے اللہ اس کو اپنی رحمت سے دور کر دے تو میں نے کہا آمین ۔آج کا عمل آپ نے کرنا یہ ہے کہ سحری کھانے لگیں تو نماز تہجدکی ادائیگی کے بعد یا پھر روزہ رکھنے کے بعد آ پ نے آسمان کی طرف دیکھنا ہے اگر تو آپ کو کوئی تارے وغیرہ نظر آجاتے ہیں تو آپ نے تاروں کی طرف نظر رکھنی ہے اگر تارے نظر نہیں آتے تو آسمان کی طرف نظر کرلیں ۔ آپ نے بارہ مرتبہ اول وآخر تین بار درود پاک پڑھنا ہے اور آپ نے پڑھنا ہے لا الہ الااللہُ الحی القیوم القائم علی کل نفس بما کسبت یہ آپ نے پڑھ لینا ہے ۔اس کے بعد ایسے ہی وہیں کھڑے ہوئے دعا کیلئے ہاتھ اٹھانے ہیں اور اپنے لیے دعا مانگنی ہے کہ یاباری تعالیٰ کہ میرے لیے میری ہر سحری مبارک کر میرے لیے اور میرے والدین کیلئے تمام عزیز واقارب کیلئے ہر سحری مبارک کر اور اس کے آپ لوگ رب تعالیٰ سے دعا مانگیں اللہ تعالیٰ آپ کی تمام حاجات مرادوں کو پورا کرے گا ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *