اس سال 2021 میں صدقہ فطر کتنا ہے ایک آدمی کے ذمہ کتنا ہے اہم مسئلہ

فطر کے معنی روزہ افطار کرنے یا روزہ نہ رکھنے کے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رمضان شریف کے روزے ختم ہونے کی خوشی میں شکریہ کے طور پر یہ صدقہ مقرر فرمایا ہے اسی کو صدقہ فطر کہتے ہیں۔ رمضان کے روزے ختم ہونے کی خوشی میں جو عید منائی جاتی ہے اس کو اسی کو عیدالفطر کہا جاتا ہے۔صدقہ فطر

ہر مسلمان صاحب نصاب پر واجب ہے۔ جو نصاب زکوٰة کا ہے وہی اس کا بھی ہے، فرق دونوں میں یہ ہے کہ زکوٰة واجب ہونے کے لیے تو چاندی یا سونا یا مال تجارت ہونا اور اس پر ایک سال گذرنا شرط ہے، اور صدقہ فطر واجب ہونے کے لیے ان باتوںکی ضرورت نہیں، بلکہ اس کے واجب ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ ضروری سامان کے علاوہ کسی کے پاس اتنا مال و اسباب ہو جس پر زکوٰة واجب ہو گئی ہے، تو اس پر صدقہ فطر واجب ہے، اس پر سال گزرنا شرط نہیں ہے۔مثلاً کسی کے پاس استعمالی کپڑوں سے زیادہ کپڑے رکھے ہوئے ہیں، یا کسی کا کوئی ذاتی مکان خالی پڑا ہے، یا اسی قسم کا کوئی اور سامان اور اسباب ہے جو اس کی حاجت اور ضرورت سے زائد ہے اور ان چیزوں کی قیمت نصاب کے برابر یا زیادہ ہے تو ایسے شخص پر صدقہ فطر واجب ہے۔ حدیث میں صدقہ فطر کی بہت تاکید آئی ہے۔آنحضرت ﷺ نے ایک آدمی کو مقرر کرکے مکہ معظمہ کے گلی کوچوں مےں یہ اعلان کرایا کہ صدقہ فطر ہر مسلمان پر واجب ہے، مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا، آزاد ہو کہ غلام۔پیارے نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: جس شخص نے عید کی نماز سے پہلے صدقہ فطر ادا کر دیا تو یہ زکوٰة مقبولہ ہے، اور جس شخص نے

عید کی نماز کے بعد ادا کیا تو وہ صدقوں میں ایک صدقہ ہے۔2021میں فی آدمی پر کتنا صدقہ فطر آتا ہے صدقہ فطر کس پر واجب ہے کب تک ادا کرسکتے ہیں کتنا ادا کرنا ہے ۔ کیا والدین اپنی بالغ اولاد کی طرف سے صدقہ فطر کرسکتے ہیں ۔ یہ تمام باتیں آپ کو بتائیں گے ۔صدقہ فطر صاحب نصاب پر واجب ہے جس کے پاس سونا ،چاندی اور نقدی ہے اس کے علاوہ مال تجارت ہو ۔ وہ سامان جو ضرور سے زائد پڑی ہوئی ہے ۔ مثال کے طور پر آپ بیس رمضان المبارک کو اللہ تعالیٰ نے پیسہ دے دیا صدقہ فطر آپ پر واجب ہوگیا ۔ ہم نے صدقہ فطر چار اعتبار سے دینا ہے ۔ اگر آپ غریب ہیں اتنے مالدار نہیں ہیں لیکن صاحب نصاب ہیں توآپ گندم کے اعتبار سے صدقہ فطر ادا کرسکتے ہیں۔ آپ کھجوروں کے اعتبار سے بھی دے سکتے ہیں اگر اس کے اعتبار سے دینگے تو احتیاطاً ساڑھے تین کلو ہونگے ۔ اگر گندم کے اعتبار سے دینگے تو دو کلو مقدار ہوگی ۔ والد اپنی اولاد کی طرف سے بھی ادا کرے گا اور اپنی طرف سے بھی ادا کرے گا۔ جو بالغ بچے ہیں ان کا حکم یہ ہے کہ اگر والد ان کی طرف سے ادا کریں تو بتا دیں کہ میں تیری طرف سے صدقہ فطر ادا کررہا ہیں ۔ اگر نابالغ ہیں تو پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.