قسطوں میں کم قیمت والی چیز زیادہ قیمت دیکر خرید سکتے ہیں کیا یہ بھی س۔ود ہے

آج کا سوا ل یہ ہے کہ ایک شخص ٹرک خریدنا چاہتا ہے جس کی قیمت پچا س لاکھ روپے ہے۔ لیکن وہ شخص مجموعی طور پر اتنی استطاعت نہیں رکھتا ہے وہ اس ٹرک کی یکمشت قیمت ادا کرسکے ۔ لہذا وہ اسے قسطوں کی صورت میں خریدتا ہے ۔ لیکن قسطوں کی صورت میں اسے ٹرک کی اصلی قیمت سے چند لاکھ روپے اوپر

ادا کرنے پ۔ڑتے ہیں۔ اور ایڈوانس کی رقم بیس لاکھ روپے اور ماہوار قسط پچاس ہزار روپے ادا کرنے ہونگے ۔ اس ٹرک کی یا کسی بھی چیز کی خرید وفروخت جائز ہوگی یا نہیں اس کا جواب یہ ہے کہ جی جائز ہے ۔ اسی طرح ایک اور سوال آیا سوال یہ ہے کہ قسطوں پر گاڑیوں کی خریدوفروخت س۔ود کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر بیچنے والا گاڑی کے کاغذات مکمل طور پر خریدار کے حوالے کردے اور قسطوں پر فروخت کرے تو جائز ہے اس میں اُدھار پر بیچ۔نے کیوجہ سے گاڑی کی اصل قیمت میں زی۔ادتی کرنا بھی جائز ہے۔ یہ س۔ود کے حکم میں نہیں ہوگی اس میں ضرورت ہوئی کہ ایک ہی مجلس میں فیصلہ کرلیں کہ خریدار نقد لیگا یا ادھار قسطوں پر تاکہ اسی کے حساب سے قیمت مقرر کی جائے ۔ مثلاً ایک چیز کی نقد قیمت پچاس ہزار روپے اور ادھار قسطوں پر اس کو سترہزار روپے میں فروخت کرتا اس طرح قیمت میں زیادتی کرنا جائز ہوگا اور س۔ود کے حکم میں نہ ہوگا ۔ اسی طرح ایک اور سوال آیا کہ اگر ناپاک کپڑوں کو ایک دفعہ نچ۔وڑنے کے بعد رسی پر ڈال دیا جائے تو رسی ناپاک ہوجاتی ہے ۔جواب یہ ہے کہ ناپاک چیز اگر گیلی ہو تو جس جگہ پر رکھی جائے وہ بھی ناپاک

ہوجاتی ہے ۔ یہ وہم کی بات نہیں پاکی کا مسئلہ ہے اس لیے پاک کرنا ضرور ی ہے۔ اسی طرح ہمارے ایک بھائی نے سوال کیا کہتے ہیں۔ کہ تقریباً پندرہ کلو تیل میں چ۔وہا رات کو گ۔ر گیا اور م ر گیا صبح چوہے ک۔و م را ہوا دیکھا تو یہ تیل کسی صورت میں پاک ہوسکتا ہے۔ یا نہیں یا کسی جان۔ور کے کھلانے کے استعمال میں لایا جاسکتا ہے ۔یا نہیں جواب یہ ہے کہ تیل پاک ہوسکتا ہے اس کی تدبیر یہ ہے کہ تیل کے برابر ا س سے زیادہ مقدار میں پانی ڈال کر اس کو آ۔گ پر چڑھایا جائے۔ یہاں تک کہ پانی جل جائے تیل باقی رہ جائے یہی عمل تین بار دہرایا جائے تو تیل پاک ہوجائیگا ۔ اسی طرح ایک اور سوال ہے کہ لوہے یا کسی قسم کی دوسری چیزیں دروازے کھڑکیاں الغرض لوہے سے بنی ہوئی جتنی بھی چیزیں ہیں جن پر رنگ کیا ہوا یا نہ ہو اگر ان پر نجاست لگ جائے تو کپڑے یا ہاتھ سے رگ۔ڑ دینے سے پاک ہوجائیں گی یا نہیں اسی طرح لک۔ڑی کی چیزیں یا پلاسٹک کی وغیرہ ۔جواب یہ ہے کہ صرف رگ۔ڑنے سے پاک نہیں ہونگی اگر گیلا کپڑا کئی بار مل دیا جائے ہر بار کپڑے کو پاک کرتے رہیں پاک ہوجائیں گی ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی سمجھ عطاء فرمائے اس کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *