وہ بد نصیب جن کی دعائیں قبول نہیں ہو تیں۔

ہمارے پاس جب لوگ آ تے ہیں تو ہم جو بنیادی چیزیں ان کو بتاتے ہیں ان میں سے ایک چیز لازمی بتاتے ہیں کہ رزق پاک نہیں ہو گا تو باطن روشن نہیں ہوگا اگر رزق پاک نہیں ہے تو میرے حضور ﷺ نے ارشاد فر ما یا ک ایک بندہ سفر کر کے کعبہ کے صحن میں پہنچتا اور کعبے کے پردوں کو تھامتا ہے اور لمبے

لمبے ہاتھ کر کے کہتا ہے اے اللہ اے اللہ لیکن اس کا کھانا ح رام ہے اس کا پینا ح را م ہے اس کو غذا ح رام سے دی گئی ہے اس کی کوئی دعا قبول نہیں ہو گی۔ سفر کیا جنگل پہاڑ کا ٹے۔ سمندروں کو پار کر کے آ گے گیا ہواؤں کے کلیجے چیر کے آگے بڑھا مہینوں کی مسافتیں طے کر کے آ گے گیا کعبے کے سامنے کھڑا ہے کعبے کے صحن میں کھڑا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود جو اس کی دعائیں ہیں وہ قبول نہیں ہو رہیں۔ کیوں؟ کیوں کہ اس کا جو رزق ہے وہ پاک نہیں ہے وہ ح رام طریقوں سے کما یا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو امتحان کی اور آخرت کو جزاء و سزا کی جگہ بنایا ہے ۔ یہاں آزمائش کے لئے خوشیاں بھی عطاء کی ہیںکہ کون ان کو میری نعمت اور احسان سمجھ کر شکر ادا کرتا ہے اور غم بھی پیدا فرمائے ہیںکہ کون ان کو اپنی غلطی سمجھ کر میری طرف رجوع کرتا ہے؟ انسان کو دنیا میں یہ دونوں چیزیں نصیب ہوتی ہیں لیکن افسوس صد افسوس کہ صرف اس کو غم ہی یاد رہتے ہیں ۔ پریشانی کے آزمائشی لمحات میں اپنے رب سے گلے شکوے،

شکایتیں اور ناشکری ہی کرتا ہے ۔اُس ذات کی طرف سے ملنے والی خوشیوں اور نعمتوں کو سرے سے بھلا دیتا ہے بلکہ ان کو اللہ کا محض فضل ، احسان اور کرم سمجھنے کے بجائے اپنا ’’کمال ‘‘سمجھتا ہے۔ اے کاش! ہمیں اپنی اِن دونوں غلطیوں کا احساس ہو سکے، خوشیوں کو اس کی عطاء سمجھیں اور شکر ادا کریں ، مصائب اور پریشانیوں کو بھی اللہ کا انعام سمجھیں کیونکہ اللہ تعالیٰ جس مسلمان کو دنیاوی آزمائشوں میں مبتلا کرتے ہیں۔ تو اس کی دعا ؤں کو اپنی بارگاہ میں قبولیت سے نوازتے ہیں، یہ اس ذات کا کرم ،بے پناہ کرم اور محض کرم ہی ہے اصل بات یہ ہے کہ ہمارے دل میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ ہم اللہ کی مخلوق ،اس پر ایمان لانے اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں۔ وہ ذات ہم سے پیار کرتی ہے ،دنیا میں خوشیاں عطاء کر کے آخرت کی حقیقی خوشیوں کا احساس دلاتی ہے کہ دیکھو دنیا کی خوشیاں عارضی ہیں، ان کے ختم ہونے کا دھڑکا سا لگا رہتا ہے، چھن جانے کا خوف دامن گیر رہتا ہے جبکہ آخرت کی خوشیاں مستقل ہیں، ان کے ختم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ کوئی چھین نہیں سکتا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *