پھلوں کا بادشاہ آم کا سیزن شروع ہوگیا افطاری میں آم کھاتے ہوئے پچھتانے سے بہتر ہے گھر والوں کو دکھاؤ، اگلے رمضان تک دعائیں دو گے

رمضان کے مہینے میں روزے دا ر کی خوراک کو ایک خاص اہمیت ہے کیونکہ صبح سحری میں غذا کھانے کے بعد تقریباً ٌپندرہ سولہ گھنٹے بعد کچھ کھائے پیے بغیر پھلوں کے بادشاہ آم افطاری کھانا پینا عام دنوں کی روٹین سے ہٹ کر بات ہوتی ہے۔ اس لیے روزے دار کے لیے اپنی جسمانی توانائی رکھنے کا انحصار غذا پر ہوتا ہے۔

مختلف ادوار میں لوگو ں کی آم کے بارے میں صحت سے متعلق مختلف رائے ہیں ۔ خاص کر ذیابیطس کے مریضو ں کے لیے کچھ خدشات موجود ہیں۔ آم کھانے کا بہترین وقت صبح سے لے کر شام تک ہے ماہرین کے مطابق آم ناشتے میں یا دوپہر کھانے کے لیے بہترین ثابت ہوتاہے۔ یہ بھی اہم ہے کہ آم کو دوپہر کھانے میں شامل کرنے کے بجائے سنیکس کے طور پر کم مقدار میں کھایا جائے۔ جبکہ رات کے کھانے میں استعمال کرنا مناسب نہیں ۔ کھانے کے بعد آم کھانے سے جسم میں کیلوریز بڑھ سکتی ہیں۔ اس لیے رات کے وقت آم سے کھانے سے پرہیز کریں۔ مختلف لوگوں نے یہ سوال کیا ہے ؟ ایک دن میں کتنے آم کھانے چاہیں؟ تجویز کیاجاتا ہے کہ آم مناسب مقدار میں کھایا جائے۔ اگر آم زیادہ کھایا جائے تو جسم کو کیلوریز استعمال کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔آم کھانے سے مہاسے بھی پیدا ہوتےہیں۔ جن کے افراد کے خ ون میں زیادہ حدت ہوتی ہے۔ انہیں آم کھانے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ جن افراد کو خ ون میں حدت کی شکایت ہواور وہ آم کی بھی شوقین ہو تو انہیں چاہیے وہ آم کو ٹھنڈا کرکھائیں اور ان کے ساتھ دودھ یا لسی کااستعمال بھی کریں۔ جیسا کہ رمضان کامہینہ چل رہا ہے تو اس میں ٹھنڈی تاثیر والے پھل ہمیں کھانے چاہیں

کیونکہ جوروزے آئیں ہیں وہ بہت ہی گرمی میں آئے ہیں۔ ہر موسم کی اپنی خصوصیات ہیں اور ہر موسم کی اپنی مزیدار پھل ہے۔ پھلوں کا بادشاہ آم اس کی تاثیر بھی گرم ہوتی ہے۔ لیکن اس کے فائدے بھی بے شمار ہے ۔ خ ون کو پیداکرتا ہے۔ جگر اور معدے کو تقویت بھی بخشتا ہے۔ عام کھانے کے ساتھ کھانا مناسب ہے۔ یا پھر دوپہر کے بعد کھائیے۔ عام کھانے کے بعد دودھ یا دودھ کی لسی پینے سے تازہ خ ون بھی پیدا ہوتاہے خیال رہے کہ جن کے جگر اور معدے اور مثانے میں گرمی ہو۔ تو وہ آم کا استعمال بالکل نہ کرے۔ ہر سال کروڑوں مسلمان سحری سے لے کر سورج ڈھلنے تک روزہ رکھتے ہیں۔ حالیہ برسوں دنیا کے کرہ نصف شمالی میں رمضان گرمیوں کے موسم میں آتا ہے۔ جب دنیا کے کئی علاقوں میں گرمی پڑتی ہے اور دن لمبے ہوتے ہیں۔ ناروے جیسے شمالی ملکوں میں روزہ بیس گھنٹے سے زیادہ لمباہوسکتا ہے کیا یہ صحت کے لیے مفید ہے۔ اور اگر آپ لگاتار تیس دنوں تک ایساکرتا رہیں۔ تو آپ کے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ تکنیکی طور پر آپ کا جسم روزہ شروع کرنے کے آٹھ گھنٹے تک معمول کی حالت میں رہتا ہے یہ وہ وقت ہے جب معدے میں خورا ک مکمل طور پر ہضم ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد

جسم جگر اور پٹھوں میں ذخیرہ شدہ گلو کو ز کے ذریعے استعمال کرنا شروع کردیتا ہے۔ جب یہ ذخیرہ بھی ختم ہوجاتا ہے تو جسم چربی کو پگھلا کر توانائی کواستعمال کرتا ہے۔ جسم میں ذخیرہ چربی کے بطور خوراک استعمال سے وزن گھٹنا شروع ہوجاتا ہے۔ کولیسٹرول میں کمی واقع ہوتی ہے اور ذیا بیطس کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ جسم میں شوگر کم ہونےسے کمزوری اور تھکاوٹ کااحساس شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ سردرد، سر چکرانا، سانس سے بدبو جیسی شکایا ت بھی ہوسکتی ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب شدید بھو ک لگنا شروع ہوجاتی ہے۔ جب جسم روزے کا عادی ہوجاتا ہے تو چربی کو پگھلا کر اسے گلو کوزبنانا شروع کردیتا ہے اس لیے افطار کے بعد پانی زیادہ مقدار میں پیناچاہیے کیونکہ روزے کی حالت میں پسینہ آنے سے جسم میں پانی کی کمی ڈی ہائیڈ ریشن واقع ہوجاتی ہے۔ عام دنوں میں ہم ضرورت سے زیادہ کیلوریز استعمال کرتے ہیں۔ جس سے جسم کو دوسرے ضروری کام مثلاً اپنی مرمت کےلیے مناسب وقت بھی نہیں ملتا۔ روزے سے یہ مسئلہ حل ہوجاتا ہے اور جسم میں اپنی متوجہ دوسرے افعال کی طر ف مرکو زکردیتاہے۔ اس لیے روزہ جسم کو مندمل ہونے اور جراثیم کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔ رمضان کے آخری دنوں میں طاقت کشی کے عمل سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *