عشاء میں کتنی رکعتیں پڑھنا ضروری ہیں ترہ یا تیرہ یا انیس سترہ سے کم پڑھے تو نماز ہوگی یا نہیں ؟

ایک بند ے کا سوا ل ہے کہ عشاء کی کتنی رکعتیں ہیں ؟ بعض لوگ کہتے ہیں سترہ ، بعض کہتے ہیں تیرہ اور بعض کہتے ہیں نو۔ دوسری بات یہ ہے کہ میری والدہ پورا دن گھر میں کام کرتی ہیں۔ رات تک وہ تھک جاتی ہیں۔ اگر وہ عشاء کی نما ز میں صرف نو رکعت پڑھ لیں ۔ تو گن اہ نہیں ہوگا برائے کرم رہنمائی فرمائیں ؟

اس کا جواب ہے بہت اچھا جواب پوچھا ہے ۔ اصل میں لوگو ں کی زبانوں پر مختلف قسم کی باتیں ہیں عشاء کی نماز کے بارے میں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ عشاء کی نو رکعتیں ہیں ۔ بعض کہتے تیرہ ہیں ۔ بعض کہتے ہیں سترہ ہیں۔ اگر کوئی نماز پڑھ نہیں رہا تو بہت کم نماز پڑھتا ہے۔ تو وہ جب لوگوں سے سنتا ہے کہ سترہ رکعت ہے تو وہ کہتا ہے کہ سترہ رکعت کون پڑھے گا ؟ جبکہ عشاءکی سترہ رکعتیں کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں ہے ۔ کسی بھی حدیث عشاء کی سترہ رکعت ثابت نہیں ہیں۔ دیکھیں سترہ رکعت بندھی کیسی ہیں؟ عشاء سےپہلے چارکعت نماز سنت، چار کعت نماز فرض، دو رکعت سنت، دو رکعت نفل، تین رکعت وتراور دو رکعت نفل ۔ تو یہ کل ستر ہ رکعتیں ہوگئی ہیں۔ مگر ہم حدیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ تو پھر کتنی رکعت بنتی ہیں۔ عشاء سے پہلے جو چار کعتیں ہیں۔ جسے سنت غیر مؤ کدہ کہا گیا ہے ۔ یعنی آپ ؐ نے کبھی پڑھی ہے اور کبھی نہیں پڑھی ہے ۔ اگر کوئی پڑھ لیے تو ثواب ہے ۔ کوئی نہیں پڑھتا کوئی گن اہ نہیں ہے۔ لیکن حضرت سعید ؒ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عشاء سے پہلے چار

رکعت یعنی چارکعت فرض سے پہلے چا ر رکعت سنت پڑھتے تھے ۔ مگر فرض نہیں ہے واجب نہیں ہے۔ مگر آپ چھوڑدیتےہیں۔ تو قابل ملامت نہیں ہے۔ اس کے بعد چاررکعت فرض توپڑھنی ہے۔ فرضوں کے بعد کتنی رکعتیں ہیں۔ تو وتر تو ہے ہی ۔ وہ حدیث سے ثابت ہے ۔ لیکن اس کے علاوہ چار نفل اور دو سنتیں یہ ثابت ہیں یا نہیں ۔ ایک حدیث ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ عشاء کی فرض نماز کے بعد چاریا چھ رکعت سنتیں پڑھتے تھے۔ تو جن میں دو رکعت تو سنت ہوا کرتی تھیں۔ اس کے علاوہ دو رکعتیں یا چار رکعتیں نوافل کی ہوجاتی تھیں۔ اس لیے عشاء کے فرضوں کے بعد دو رکعت نماز سنت یہ سنت مؤکدہ ہے۔ باقی جہاں تک نوافل کی بات ہے جو وتروں سے دو رکعت پہلے یا وتروں کے بعد ہے نوافل کی بہت اہمیت ہے ۔ بہت فضیلت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کل قیامت کے دن اگر کسی شخص کی فرض نماز میں کمی ہوگی تو اس کو نوافل سے پورا کیا جائے گا۔ نوافل اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔ آج ہمارے معاشرے سے نوافل بالکل ختم ہوچکے ہیں ۔ بہت کم ایسے لوگ ہیں وہ نوافل کا اہتمام کرتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *