خالص پیسوں اور دولت کے لئے مجرب وظیفہ

یہ وظیفہ بہت بابرکت اور فضیلت والا ہے ایک بزرگ نے ایک آدمی سے پوچھا کہ تمھاری آمدنی میں اتنی برکت ہے تم ایسا کون سا وظیفہ کرتے ہو جس کی وجہ سے تمھارے رزق میں اتنا اضافہ ہوا ہے اور اتنے کم دنوں میں اللہ نے تمھے اتنا رزق نوازا تو وہ شخص کہنے لگا کہ میں روزانہ یہ تسبیع کرتا ہوں جس کی وجہ سے

میرا رزق اتنا وسیع ہو گیایہ عمل آپ کو دو راتوں میں دولت سے مالا مال کر دے گا اس عمل کو آپ اپنے خدا پر پختہ یقین کے ساتھ کرنا ہے اور یہ سوچنا ہے کہ مجھے رزق دینے والی ذات بس میرے رب کریم کی ہے اور میں نے صرف اللہ کی طرف اپنی حاجتوں کے لیے رجوں کرنا ہے بے شک وہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے رات کو عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر آپ نے اس وظیفے کو کرنا ہے وظیفہ آپ نے اس طرح کرنا ہے کہ اول اورآخر درود پاک پڑھنا ہے 10 مرتبہ اللہ کا نام یا رزاقُ 700 مرتبہ پڑھنا ہے یہ عمل آپ نے دو راتوں کے لیے کرنا ہے اور اسطرح کے اللہ کی ذات پر کامل یقین ہو۔ عمل کے بعد آپ نے اللہ سے رزق اور مال میں برکت کی دعا کرنی ہے اللہ کی بارگاہ میں اس وظیفے کے بہت اہمیت ہےاللہ کے ناموں کی بڑی فضیلیت ہے اللہ نے فرمایا کہ جو شخص میرا نام لے کر مجھے پکارے میں اسے خالی ہاتھ کیسے لوٹا دوں اس عمل سے آپ چند دنوں میں کڑور پتی بن جائیں گے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس نے اپنی کتاب میں لکھا اور وہ اپنی ذات کے متعلق لکھتا ہے جو اُس کے پاس عرش پر رکھی ہوئی ہے کہ میرے غضب پر میری رحمت غالب ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو عرش کے اوپر اپنے پاس لکھ کر رکھ لیا: بے شک میری رحمت میرے غضب سے بڑھ گئی ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

روایت کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے گناہ کیا (راوی نے کبھی یہ الفاظ کہے کہ ایک شخص سے گناہ سر زد ہوا) تو وہ عرض گزار ہوا: اے میرے رب! میں گناہ کر بیٹھا (کبھی یہ الفاظ کہے کہ مجھ سے گناہ ہوگیا) پس تو مجھے بخش دے۔ چنانچہ اُس کے رب نے فرمایا: میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہوں کو معاف کرتا اور ان کے باعث مواخذہ کرتا ہے، لہٰذا میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ اس کے بعد جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا وہ گناہ سے باز رہا، پھر اُس نے گناہ کیا (یا اس سے گناہ سرزد ہو گیا) تو اس نے عرض کیا: اے میرے رب! میں گناہ کر بیٹھا (یا مجھ سے گناہ ہو گیا) پس مجھے بخش دے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ معاف کرتا اور ان کے باعث مواخذہ کرتا ہے، پس میں نے اپنے بندے کو پھر بخش دیا۔ پھر وہ ٹھہرا رہا جب تک اللہ نے چاہا، پھر اس نےگناہ کیا (اور کبھی یہ کہا کہ مجھ سے گناہ ہوگیا)۔ راوی کا بیان ہے کہ وہ پھر عرض گزار ہوا: اے رب! مجھ سے گناہ ہو گیا یا میں پھر گناہ کر بیٹھا، پس تو مجھے بخش دے۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ معاف کرتا اور ان کے سبب پکڑتا ہے، لہٰذا میں نے اپنے بندے کو تیسری دفعہ بھی بخش دیا۔ پس جو چاہے کرے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *