کمر درد یا مہروں کا درد مکمل ختم ہو جا ئے گا۔ مہروں کے گیپ کا بہترین علا ج۔

کمر کے نچلے حصے کا درد عموماً ریڑھ کی ہڈی اس کے پٹھوں اور نسیجوں کے تناؤ یا کھچاؤ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ درد نہایت سنگین صورت بھی اختیار کر سکتا ہے اورسرطان یا ریڑھ کی ہڈی سے متعلق ایسے مسائل کا موجب بن سکتا ہے جو اعصابی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔ماہرین کا

کہنا ہے کہ عُضلاتی اور ہڈیوں کے نظام سے متعلق کمر کے نچلے حصے کے درد کی بیماری کی تشخیص کرتے ہوئے ڈاکٹروں کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اس کی سنگین وجوہات کے امکانات پرغورکریں۔کمر درد کے طبی لحاظ سے کئی اسباب ہوا کرتے ہیں لیکن آج کل ایسے افراد جن کو زیادہ دیر حالت نشست میں رہنا پڑتا ہو یا زیادہ وقت کھڑے ہو کر کام کرنا پڑتا ہے وہ اس کی زد میں زیادہ آ تے ہیں۔مزاج میں گرمی یا سردی کا عنصر بڑھ جانے سے بھی کمر درد حملہ آور ہو جاتا ہے۔ اسی طرح یورک ایسڈ کی طبعی مقدار کی زیادتی،قبض،مہروں میں خلا پیدا ہونا،ورمِ گردہ،گردے میں پتھری کا ہونا اور امراض مردانہ احتلام،جریان اور امراضِ نسواں لیکوریا،بندشِ حیض وغیرہ بھی کمر درد کا سبب ہو سکتے ہیں۔بھاری وزن اٹھانے سے اچانک کمر میں جھٹکا لگنا یا کمر کے پٹھوں میں کھچاؤ پیدا ہونا بھی کمر درد کا ذریعہ بنتا ہے۔عام جسمانی کمزوری بھی کمر درد کا ایک بہت بڑا سبب بنتی ہے جبکہ جسمانی کمزوری کی وجہ ناقص،غیر معیاری اور ملاوٹ سے بھرپور غذائیں ثابت ہو رہی ہیں۔مسلسل ناقص اور غیر معیاری خوراک استعمال کرنے سے بدن کی قوت مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے جس سے اعصاب اور عضلات میں کچھاؤ اور دباؤکی کیفیات پیدا ہو کر جسمانی دردوں کا سبب بننے لگتی ہیں۔ علاوہ ازیں ریڑھ کی ہڈی کے مہروں میں خرابی واقع ہوجانے سے بھی شدید درد سامنے آتا ہے۔ بعض اوقات یہ درد کمر کے اعصاب سے شروع ہوکر دائیں بائیں ٹانگوں

تک میں سرایت کرتا محسوس ہونے لگتا ہے۔طبی اصطلاح میں اسے فی زمانہ ’ڈسک سلپ‘ ہونے سے موسوم کیا جاتا ہے۔ڈسک سلپ ہونے والے مفروضے کا اصل سبب چوتھے مہرے پر دباؤ آنا ہے۔ جب چوتھے مہرے پر سٹریس یا دباؤ پڑتا ہے تو اس کے رد عمل کے طور پر درد پوری کمر سے ہوتا ہوا ایک یا دونوں ٹانگوں میں محسوس ہونے لگتا ہے۔ اسی طرح جب کمر درد کا احساس دمچی کی ہڈی میں ہو اور اٹھتے بیٹھے یا حرکات و سکنات کرتے وقت درد شدید ہو تو عام طور پر اس کا سبب بارہویں مہرے کا ٹلنا یا اپنی جگہ سے ہٹ جانا مانا جاتا ہے۔ اس طرح کے درد کو دافع درد ادویات استعمال کرنے سے فور ی افاقہ تو ہوجاتا ہے لیکن جب تک مہرہ اپنی جگی ایڈجسٹ نہیں ہوپاتا دمچی کی ہڈی میں ہونے والا درد شدید سے شدید تر ہوتاچلاجاتا ہے۔ اگر اس کا بر وقت تدراک نہ کیا جا سکے تو حامل درد عمر بھر اس تکلیف میں مبتلا رہنے پہ مجبور ہوسکتا ہےہروں میں خرابی واقع ہونے سے پیدا ہونے والے درد کمر سے نجات پانے کا واحد حل مینول تھراپی ہے۔ایک ماہر میول تھراپسٹ خدا داد صلاحیتوں کے بل بوتے پر انگلیوں اور انگوٹھے سے مہرو ں کو بہ آسانی ایڈجسٹ کر دیتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *