رمضان المبارک ایک بار یہ تسبیح پڑھ کر دیکھ لو اتنی دولت آجائیگی لوگ پوچھیں گے کیا پڑھتے ہو

حضرت سیدنا ابن مسعودؓ سے مرو ی ہے کہ غزوہ حنین میں نبی اکرم ﷺ نے مالِ غنیمت تقسیم فرماتے ہوئے بعض لوگوں کو ترجیح دی‘ اقرع بن حابس کو سو اونٹ دیے، عینتہ بن حصن کو بھی اتنے ہی دیے۔ شرفائے عرب میں سے بھی بعض کو ترجیحاً کچھ زیادہ مال دیا۔ ایک شخص نے کہا: اللہ کی قسم! اس تقسیم

میں انصاف نہیں کیا گیا اور نہ رضائے الہی کو پیش ِنظر رکھا گیا۔ (حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں) میں نے کہا : اللہ کی قسم! میں ضرور نبی اکرم ﷺ کو بتاؤں گا۔ چنانچہ میں نے خدمت ِاقدس میں حاضر ہوکر یہ واقعہ بیان کردیا‘ یہ سن کر آپ ﷺ کا چہرۂ انور سرخ ہوگیا اور آپؐ نے فرمایا : اگر اللہ اور اس کا رسول انصاف نہیں کریں گے تو کون کرے گا! پھر فرمایا : اللہ عز و جل موسیٰ پر رحم فرمائے کہ انہیں اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں: میں نے کہا کہ آیند ہ میں آپ ﷺ کی خدمت میں اس قسم کی بات نہیں پہنچاؤں گا۔اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے اللہ صابروں کو دوست رکھتاہے ۔اللہ تعالیٰ صبرکی فضیلت یوں بیان فرماتے ہیں۔یقینااللہ تعالیٰ صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے۔دوسری جگہ ارشادباری تعالیٰ ہے ’’اورجومصیبت آپ کوپیش آئے ،اس پرصبرکرو،یہ بڑے عزم اورحوصلے کی بات ہے۔ ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے پیغمبرﷺ سے فرمایااور(اے رسول ؐ)صبرکیجئے جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبرکیا۔حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایااللہ تعالیٰ کے بعض ایمان والے بندوں اورایمان والی بندیوں پراللہ تعالیٰ کی طرف سے مصائب اورحوادث آتے رہتے ہیں ، کبھی اس کی جان پرکبھی اس کے مال پرکبھی اس کی اولاد پر (اوراس کے نتیجے میں اس کے گن اہ جھڑتے رہتے ہیں)یہاں تک کہ مرنے کے بعد وہ اللہ کے حضو ر اس حال میں

پہنچتا ہے کہ اس کاایک گن اہ بھی باقی نہیں ہوتا۔ ‘ (جامع ترمذی) بعض لوگ دنیا میں حد سے زیادہ دکھ ، تکلیف اور بیماری کا شکار بنتے ہیں۔ ان لوگوں کو اجراسی مقدار میں ملے گا جس مقدار میں انہوں نے مصیبت اٹھائی ۔ سب سے زیادہ تکالیف اللہ کے پیغمبروں اور برگزیدہ ہستیوں نے برداشت کیں اور ان پر شکر اورصبرکیا جس طرح حضرت یعقوب ؑ کو ان کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کی اندوہن.اک خبرسنائی گئی توانہوں نے صبرکیا۔ حضرت عائشہ ؓ کوایک سازش کے تحت بدنام کرنے کی کوشش کی گئی توآپؓ نے صبر کیا جس کو صبرجمیل کہا جاتاہے اسی طرح حضرت حارثؓ کوتپتے انگاروں پرلٹایا گیا ،حضر ت بلال ؓ کے گلے میں رسی ڈال کرگھسیٹاگیا۔حضرت صہیب رومیؓ کو ہجرت کے موقع پرمال ودولت سے ہاتھ دھونا پڑا، حضرت ابو سلمہ ؓ سے ان کے بیوی بچے چھین لیے گئے ،ام سلمہؓ سے بچے اور شوہرچھین لیاگیا ۔حضرت خبیب ؓ کوایمان لانے کی وجہ سے سولی پرلٹکا دیاگیا ۔آج ہم آپ کے سامنے ایک تسبیح لیکر حاضر ہوئے یہ خاص افطار کے وقت کی ہے۔جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے پاس بے تحاشہ دولت آجائے اور زندگی بھر کبھی اسکو پیسے کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے تو اس کو چاہیے رمضان المبارک میں روزانہ افطار کے وقت یہ ایک تسبیح پڑھ لیا کریں افطار کے وقت ایک تسبیح سورۃ الکوثر کی پڑھنی ہے ۔ اول وآخر گیارہ مرتبہ درود شریف بھی لازمی پڑھنا ہے ۔ اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ آپ کی حاجتیں ضرور پوری کرے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *