ماہ رمضان کی مبارک راتوں میں ایک تسبیح پڑھ لو گھر میں اتنا رزق آئیگا پورا مہینہ بیٹھ کر کھاؤ گے ختم نہ ہوگا

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ا سے دریافت کیا کہ اللہ کو کونسا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں میں نے کہا کہ اس کے بعد کونسا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: والدین کی فرمانبرداری۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ

فرماتے ہیں میں نے کہا کہ اس کے بعد کونسا عمل اللہ کو زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا۔ حضرت عوف بن مالک اشجعی ؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرتے؟ آپ ا نے تین مرتبہ اسکو کہا، تو ہم نے اپنے ہاتھ بیعت کے لئے بڑھادئے اوربیعت کی۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ ہم نے کس چیز پر بیعت کی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: صرف اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اورنمازوں کی پابندی کرو۔ اس کے بعد آہستہ آواز میں کہا: لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی اکرم ﷺ نے نماز کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: جو شخص نماز کا اہتمام کرتا ہے تو نماز اس کے لئے قیامت کے دن نور ہوگی، اس (کے پورے ایماندار ہونے) کی دلیل ہوگی اور قیامت کے دن عذاب سے بچنے کا ذریعہ ہوگی۔ اور جو شخص نماز کا اہتمام نہیں کرتا اس کے لئے قیامت کے دن نہ نور ہوگا، نہ اس (کے پورے ایماندار ہونے) کی کوئی دلیل ہوگی، نہ عذاب سے بچنے کا کوئی ذریعہ ہوگا۔ اور وہ قیامت کے دن فرعون، قارون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔ آج ہم آپ کیلئے ماہ رمضان کی مبارک راتوں میں دعاؤں کی قبولیت کا ایسا وظیفہ لیکر حاضر ہوئے ہیں جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ آپ پر خاص

کرم اور رحمت فرماتے ہوئے آپ کی تمام جائز دعاؤں کو آپ کے حق میں قبول فرما کر آپ کو آپکے تمام مقاصد میں کامیابی عطاء فرمائیں گے ۔ عمل نہایت آسان اور مختصر سا ہے آپ کی جو بھی حاجت ہے یہ وظیفہ اسی متعلق ہے آپ نے ماہ رمضان کی مبارک راتوں میں چند منٹوں کیلئے اس وظیفہ کو کرنا ہے انشاء اللہ اس وظیفہ کے کرنے کے برکت سے اللہ تعالیٰ آپ پر کرم فرماتے ہوئے آپ کی تمام جائز حاجات اور مقاصد کو پورا فرمائیں گے آپ نے یہ عمل عشاء کی نماز کے بعد کرنا ہے اور فجر کی آذان سے پہلے کرنا ہے یعنی اس عمل کو عشاء کی نماز سے لیکر فجر کی آذان تک کر سکتے ہیں بہتر یہی ہے کہ نماز تہجد ادا کی جائے اور اس کے بعد اس عمل کو کیا جائے آپ نے کرنا کیا ہے آپ نے دو رکعت نفل صلاۃ الحاجت عام نمازوں کی طرح اپنے مقاصد کو ذہن میں رکھ ادا کرنی ہیں ۔ دو رکعت نفل صلا ۃ الحاجات پڑھ کر آپ نے سلام پھیر لینا ہے پھر وہیں بیٹھ کر سات مرتبہ درود ابراہیمی اور 313مرتبہ لاالہ الا اللہ الملک الحق المبین پھر آخر میں سات مرتبہ درود ابراہیمی پڑھنا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے سامنے جھولی پھیلا کر ہاتھ اٹھا کر اور رو کر اپنی حاجت کیلئے دعا کریں یہ وقت بہت ہی قیمتی ہے اس کی برکت سے آپ کی جو بھی دعائیں ہونگی اللہ تعالیٰ وہ قبو ل فرمائیں گے اور آپ کے جوبھی مقاصد ہونگے وہ لازمی پورے ہونگے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.