بڑے بڑے دولت مند لوگوں کا وظیفہ اس سے زیادہ کوئی طاقت والا وظیفہ نہیں ہے

کیا چند دنوں میں بہت زیادہ دولت کمائی جاسکتی ہے؟ ایسے ہی سوالات کاجوب جاننے کے لیے آپ اس مضمون کی جانب متوجہ ہوئے ہونگے، لیکن اس کا جواب تو کوئی ایسا فرد دےسکتا ہے جو خود امیر ہو ، وہی بتاسکتا ہے کہ اسے امیر ہونے میں کتنا عرصہ لگا، جبکہ ایسا فرد جو خودامیر ہونے کی کوششیں کررہا ہے اس سے دولتمند

ہونے کا کوئی مشورہ لینا فضول ہے.دنیا کے کسی بھی ایسے امیر ترین فرد سے یہ سوال پوچھئے جسے دولت ورثے میں نہ ملی ہو بلکہ اپنے بلبوتے پر اپنی محنت سے دولت حاصل کی ہو ایسے فرد کا لازمی جواب ہوگا کہ اس نے دولت بتدریج محنتکرکے حاصل کی ہے نہ صرف محنت کرکے بلکہ ٹھیک وقت پر درست فیصلہ کرکے وہ دولتمندوں کی صفمیں شامل ہوا ہے.کوئی بھی فرد اس دنیا میں ایسا نہیں ہوگا جو سو کر اٹھا ہو اور ارب پتی یا کروڑ پتی بن گیا ہو، تاوقتیکہ اسنے کسی امیر ترین عورت سے شادی کرلی ہو لیکن یہ فلموں میں تو ہوتا ہے لیکن حقیقت میں اگر ہوتا بھی ہےتو اس فرد کو وہ سچی خوشی نہیں مل سکتی جو خود محنت کرکے امیر بننے سے حاصل ہوتی ہے، اسیطرح بڑے بڑے انعامی بانڈز بھی نصیب والوں کے کھلتے ہیں اور ان کی مالیت بھی اتنی زیادہ نہیں ہوتی ہےآپ ساری عمر کروڑ پتی ہی رہیں بلکہ وہ دولت بھی آپ کو محنت سے استعمال کرکے اس سے مزید دولتکمانا ہوتی ہے وگر نہ آپ دوبارہ تنگدستی کی جانب بڑھنے لگتے ہیں کیونکہ انعامی رقم کا درست استعمال نہکیا جائے تو وہ بھی گھٹنے لگتی ہے. تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ زیادہ تر افراد نے دولت مندبننے کے لیے نہ صرف محنت کی ہے بلکہ مستقل مزاجیکے ساتھ سخت محنت کی ہے اور اپنی راہ میں آنے والی تمام رکاوٹوں کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا ہے

اورصحیح وقت پر درست فیصلہ کرتے ہوئے خود کو غربت کے دائرے سے نکال کر آسودگی کے باغ میں لائےہیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے انسان! جب تک تو مجھ سے دعا کرتا اور اُمید رکھتا رہے گا، میں تیرے گناہ بخشتا رہوں گا چاہے تجھ میں کتنے ہی گناہ ہوں مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ اے انسان! اگر تیرے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں پھر تو بخشش مانگے تو میں بخش دوں گا مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ اے انسان! اگر تو زمین بھر گناہ بھی لے کر میرے پاس آئے لیکن تو نے شرک نہ کیا ہو تو میں تجھے اس کے برابر بخشش عطا کروں گا۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جسے اللہ تعالیٰ نے وافر مال عطا فرمایا تھا۔ جب اس کی موت کا وقت آیا تو وہ اپنے بیٹوں سے کہنے لگا: میں تمہارا کیسا باپ ہوں؟ انہوں نے جواب دیا، آپ بہت اچھے باپ ہیں۔ کہنے لگا: میں نے نیکی کا کبھی کوئی کام نہیں کیا جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر مجھے پیس ڈالنا اور جس روز تیز ہوا چلے تو میری راکھ کو بھی اُڑا دینا۔ اُنہوں نے ایسا ہی کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اُس کے ذرات کو جمع کر کے دریافت فرمایا: تجھے اِس پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اُس نے جواب دیا: تیرے خوف نے۔ اللہ تعالیٰ نے اُسے اپنی آغوشِ رحمت میں لے لیا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو ۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *