حضرت علی ؓ نے فر ما یا جب ہر دروازہ بند ہو جا ئے پھر اس طرح یہ عمل کر یں

آج ہم آپ کے ساتھ دو وظائف شئیر کر یں گے ایک ایسا وظیفہ میں لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں وہ ایک ایسا عمل ہے ایک ایسا وظیفہ ہے جو کہ حضرت علی شیر خدا سے منقول ہے جب آپ کو پریشانیوں اور مشکلات نے گھیر لیا ہو اور ہر طرف سے

مایوسی اور ناکامی کے بادل چھائے ہوئے ہوں جب تمام دروازے بند ہو جا ئیں اور جب آپ کو ایسا لگنے لگے کہ آپ کا کوئی بھی طریقہ پر امن نہیں ہو رہا ہے تو انشاء اللہ تعالیٰ یہ عمل کرنے کی بر کت سے اللہ رب العزت کے فضل اور کرم سے آپ کو اس سے ضرور فائدہ ہو گا۔ اس عمل کے ساتھ ایک ایسا واقعہ بھی آپ کے ساتھ شئیر کر وں گا کہ جس کو سننے کے بعد آپ کا یقین اور بھی زیادہ پختہ ہو جا ئے گا آپ کو وہ عمل وہ وظائف اور وہ واقعہ بھی بتائیں گے لیکن اس سے پہلے ان دوستوں سے گزارش ہے کہ میری ان باتوں کو بہت ہی زیادہ غور سے سنیے گا کیونکہ اس وظیفے سے آپ کو بہت ہی زیادہ فائدہ ہونے والا ہے جیسا کہ ہم نے آپ کو پہلے ہی بتا یا کہ آج ہم آپ کے ساتھ دو وظائف شئیر کر یں گے ایک وظیفہ حضرت علی ؓ سے منقول ہے پہلے ہم حضرت علی ؓ سے منقول وظائف کے بارے میں بات کر تے ہیں لیکن اس سے پہلے ایک بات آپ سے کر نا لازمی سمجھتا ہوں اور وہ یہ ہے۔ کہ میری تمام باتوں کو غور سے سنئیے

گا اور سمجھئے گا تا کہ اس وظیفے پر عمل کر نا آپ کے لیے آسان ہو جا ئے آج میں ایک ایسا وظیفہ شئیر کر وں گا جو کہ ہر بند دروازے کو کھولنے والا عمل ہے جب ہر دروازہ بند ہو جا ئے اور کوئی راستہ نظر نہ آ رہا ہو تب آپ یہ عمل کریں اللہ پاک آپ کی دعا ؤں کو قبول فر ما ئیں گے آپ کی تمام تر حاجات مقاصد میں کا میابی عطا فر ما ئیں گے یہ عمل حضرت علی ؓ کا بتا یا ہوا ہے اللہ کے ایک اسمِ مبارک یا لطیفُ اور قرآن پاک کی سورۃ توبہ کی دو آیات کا عمل ہے۔ آپ نے یہ عمل نمازِ فجر کے وقت کر نا ہےا ور کوشش کیجئے گا کہ اس عمل کو دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی شئیر کر یں تا کہ دوسرے لو گ بھی اس سے مستفید ہو سکیں آپ نے نمازِ فجر کے بعد اول آخر گیارہ مرتبہ درودِ ابراہیمی اور درمیان میں یا لطیفُ کو ایک سو بار ورد کر نا ہے اور اس کے بعد آپ نے قرآن پاک کی سورۃ توبہ کی دو آیات ایک سو اٹھائیس اور ایک سو انتیس کی تلاوت کرنی ہے اور سر سجدے میں رکھ کر اپنے گ ن ا ہ وں کی معافی کرنی ہے توبہ استغفار کر نا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *