ایک لڑکی کا درد ناک واقعہ جس نے اپنی آ نکھیں خود ضائع کیں

بخاری شریف میں مدنی شریف ؑ نے ارشاد فر ما یا : فر ما یا فجر کی نماز کا وقت گزر گیا ۔ سورج طلوع ہو گیا بندہ سوتا رہتا ہے۔ شیطان اس کے گھر کے اند آ گیا اور اس کے دائیں کان کے اندر پیشاب کر کے چلا جاتا ہے ۔ سارا دن گھر میں لڑتا رہے گا۔ بچوں کے ساتھ جھگڑتا رہے گا۔ کاروبار کا نقصان کر بیٹھے گا۔ گاہک

نہیں آ ئے گا۔ سارا دن فارغ بیٹھے گا۔ سارا دن فالج کی حالت میں گزارے گا۔ مطلب کہ سارا دن خود بھی مفلوج رہے گا اور خود سے جڑے رشتوں کو بھی مفلوج رکھے گا۔ موٹر سائیکل پر جلدی جائے گا ۔ پیٹرول ختم ہو جائے گا۔ کپڑے استری کروائے گا مگر کپڑے جل جائیں گے۔ بجلی چلے جائے گی۔ نہانے لگے گا ۔ تو موٹر میں کوئی مسئلہ ہو جائے گا۔ ناشتہ کر نے لگے تو مزاج کے متعلق کھا نا نا پکے گا۔ روٹی کے اندر ذائقہ نہیں آ ئے گا۔ سالن کے اندر لذت نہیں آ ئے گی۔ چائے بد ذائقہ کر دوں گا۔ تیرے یار تجھ سے لڑ نے کے لیے تیرے دروازے پر آ جائیں گے۔ جی جناب کو ختم کر دوں گا۔ آ فتا ب کو ختم کر دوں گا۔ تو تو پر لے آ ؤں گا کروڑوں کا مال گال کے بیٹھے گا ۔گا ہک تیری دکا ن پر نہیں آ ئے گا۔ کمپنیاں تیرے دروازے پر آ جائیں گی۔ کپڑے پھاڑ پھاڑ کر تیرے چلے جائیں گے۔ گھر آ ئے گا بیوی تجھے سالن گرم کر کے نہیں دے گی۔ بچے کہیں گے ابا جی عذاب آ گیا ۔ تجھے دیکھ بچے باہر چلے جا ئیں گے۔ تجھے دیکھ کر بچے کمرے میں چلے جایں گے۔ تو

کہے گا کہ یا اللہ یہ سب کیا ہو گیا۔ دنوں کے اندر کا یا پلٹ گئی۔ دنوں کے اندر یہ سب کیا ہو گیا۔ فر ما یا او ظالم تو نے مجھے سجدہ نہ کیا ۔ میں نے اپنی مخلوق کو تیرے تابع ہو نے سے بعض کر دیا۔ میں نے اپنی مخلوق کو تیرا نا فر مان کر دیا۔ کاش ایک سجدہ کر کے جاتا ۔ مجھے میری عزت کی قسم ہے ۔ نارووال کے لوگ تیری دکان پر سودا لینے نہ آ تے میں فرشتوں کو انسانوں کے روپ میں بھیج دیتا اور تیرے مسئلے مسائل حل کر دیتا۔ اتنی بڑی زیادتی اللہ کے ساتھ؟؟؟میرے عزیز اللہ اکبر روڈ پر موٹر سائیکل والا گزر گیا ۔ روڈ پر جانے والا سائیکل والا گزر گیا ۔ اس کے کلچ میں اس کی بریک میں آستین آ گئی اور کپڑا پھٹ گیا تو تو میں میں شروع ہو گئی۔ ماں بہن شروع ہو گئی۔ لوگ کہتے ہیں چل یار جلدی کر ۔ تو کہے گا کہ اس کی زیادتی ہے نا ۔ اس کی زیادتی ہے نا۔ اتنا سا کو نہ پھٹ گیا تو تجھے زیادتی نظر آ ئی ۔ تو نے دین کو پھاڑ کر دیا ۔ تو نے دین کی چادر کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تو عرش والا اتنا بھی نہ کہے کہ یار تو میرے ساتھ زیادتی کر رہا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.