یرقان بلڈ پریشر، گردوں ، آنتوں ، طاقت ، استعمال کا طریقہ سنگھاڑے کے حیران کن فوائد خطرناک بیماریوں کاعلاج چند ضروری احتیا طیں

ایک ایسی چیز جس کو سردیوں میں عام طور پردیکھتے ہیں جو گلیوں میں بک رہاہوتاہے۔ جو دیکھنے میں دل کو شاید اچھا نہیں لگتا ہے۔ اگر لوگوں کے اس کے غذائی فوائد کے بارے میں معلو م ہوتو آپ اس کو نظر انداز نہیں کریں گے۔ پاکستان اور ہندوستا ن اس میوے یا پھل کو سنگھاڑے

کے نام جانا جاتا ہے۔ آج ہم جانیں گے کہ اس کے بیش قیمت فوائد کیاہیں؟ کن خطر ناک بیماریوں کا علاج ہے۔ او ر اس کے سو گرام میں کیا غذائیت ہوتی ہیں؟ اس میں کچھ احتیاطیں بھی ہیں۔ سب سے پہلے اینٹی بیکٹریا، اینٹی وائرس اور انسداد کینسر سنگھاڑے میں موجود ہوتے ہیں۔ خاص طور پر مقعد کے کینسر بہت زیادہ مفید ہیں۔ معدے اور تلی میں مفید ہے ۔ معدے اور تلی کو مضبوط کے ساتھ ساتھ تلی میں آنے والی کمزوری کی علامات جیسے منہ کا ذائقہ ہونا، نیند نہ آنا، خود کو بیمار محسوس کرنا، سوجن یاپیشاب میں انفیکشن کو بھی یہ دور کرتاہے ۔ یہ کان تھائی رائیڈاور دیگر بیماریوں مؤثر ہے ۔ سنگھاڑے جسم میں زہریلے مواد کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تھائی رائیڈ گردن میں سانس کی نالی کے قریب ، غدود کو کہتے ہیں۔ سنگھاڑا ان کو مناسب طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے جسم کو ٹھنڈا کرنے کا کام کرتا ہے۔ منہ میں لعاب دہن کو بڑھاتا ہے اور پیاس بجھانے کا کام بھی کرتاہے بلڈپریشر کو کم کرتا ہے۔ سنگھاڑے پوٹاشیم سے بھر پور ہوتے ہیں ۔ جس کو بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مد د ملتی ہے۔ اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بھی کم ہوتاہے۔ سنگھاڑوں میں روازنہ درکار پوٹاشیم کی مقدار کا پانچ فیصد حصہ موجود ہوتا ہے۔ اس میں موجود وٹامن بی سے اچھی نیند کے حصول کے لیے مدد دیتا ہے۔

اور بے خوابی کی شکایت کو دور کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ مزاج کو بھی بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہوتاہے۔ سنگھاڑوں میں پوٹاشیم ، وٹامن بی اور و ٹامن ای جیسے اجزاءموجود ہوتے ہیں۔ جو ہمارے بالوں کی صحت کے لیے بہت ضروری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سنگھاڑے کھانا بالوں کی نشوونما کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔ سنگھاڑے کا استعمال کرنے سے جسمانی ور م کے ساتھ خون کو بھی صاف کرتا ہے جس سے جلد تازہ ہوجاتی ہے۔ اس کے ساتھ جسمانی طاقت بڑھانے کے لیے بہترین سوغات ہے۔ ان تمام تر فوائد کے برعکس کچھ احتیاطی تدابیر ہیں جن کو اپنانا بہت ضروری ہے ۔ ان احتیاطی تدابیر کا انحصار کسی بھی انسان کے نظام ہاضمہ پر ہوتا ہے۔ ایک صحت مند افراد دس سے پندرہ سنگھاڑے کھاسکتا ہے۔ لیکن اس سے زیادہ کھانا گیس پیدا کرتا ہے۔ معدے میں درد کا باعث بن سکتا ہے۔ ثابت سنگھاڑہ کھانے کے بعد آدھا گھنٹہ تک پانی نہین پینا چاہیے۔ شوگر کے مریضوں کو اس کی متعد د مقدار استعمال کرنی چاہیے۔ کیونکہ اس میں نشاستہ اور کاربوہاییڈ ریٹس کافی زیادہ مقدار میں ہوتے ہیں۔ سنگھاڑوں کو خریدتے ہوئے خیال رکھیں کہ یہ سخت ہو کہیں سے نر م نہ ہو۔ جب آپ اس کا چھلکا اتاریں گے تو وہ نرم ہوں گے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *