صرف ایک مرتبہ کرنے سے ہر بیماری دور پہاڑ پر پڑھا جائے وہ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائے

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ ان کا گزر ایسے بیمار سے ہوا جو سخت امراض میں لاعلاج امراج میں مبتلا تھا ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس کے کان میں سورۃ المومنون کی درج ذیل آیتیں پڑھیں ۔ جیسے ہی کان میں آیتیں پڑھیں وہ اسی وقت اچھا

ہوگیا وہ آیتیں سورۃ المومنون کی آیت نمبر 115تا 118ہے ۔ جب حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس مریض کے کان میں دعا پڑھی تو رسول اللہﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے دریافت کیا کہ آپ نے اس کے کان میں کیا پڑھا ۔ عبداللہ بن مسعود ؓ نے عرض کیا یہ آیتیں جو سورۃ المومنون کی ہیں پڑھو ۔ رسول اللہﷺ نے فر مایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے اگر کوئی آدمی جو یقین رکھنے والا ہو وہ آیتیں پہاڑ پر پڑھ دے تو پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ سکتا ہے ۔ یہ قرطبی کی حدیث ہے ۔ حضوراقدس ﷺ کا یہ فرمانا کہ اس کو اگر کسی پہاڑ پر پڑھا جائےتو وہ بھی اپنی جگہ چھوڑ دے ۔ یہ انتہائی طاقتور الفاظ ہیں ۔ اس کو انتہائی یقین کیساتھ جو بھی لاعلاج مریض کےکان میں پڑھے گا ۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی وقت جاتا رہے گا۔ ایک شخص کو امتحان کی مختلف راہ سے گزرنا پڑتا ہے۔ کہیں ملتے ہوئے فائدوں سے محرومی کو گوارا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی خارجی مجبوری کے بغیر خود سے اپنے آپ کو کسی چیز کا پابند کرلینا پڑتا ہے۔ کہیں اپنی بے عزتی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ کہیں زیادہ کو چھوڑ کر کم پر قانع ہونا پڑتا ہے، کہیں قدرت رکھتے ہوئے اپنے ہاتھ پاوٴں کو روک لینا پڑتا ہے۔ کہیں اپنی مقبولیت کو دفن کرنے پر راضی ہونا پڑتا ہے، کہیں شہرت اور استقبال کے راستے کو چھوڑ کر گمنامی کے طریقے کو اختیار کرنا پڑتا ہے، کہیں الفاظ کا ذخیرہ ہوتے ہوئے اپنی زبان کو بند کرلینا پڑتا ہے ، کہیں جانتے بوجھتے دوسرے کا بوجھ اپنے

سر پر لے لینا پڑتا ہے، کہیں اپنے آپ کو ایسے کام میں شریک کرنا پڑتا ہے جس میں کسی قسم کا کوئی کریڈٹ ملنے والا نہیں، ان تمام مواقع پر نفس کو کچل کر خلافِ نفس کام کرنے پر اپنے آپ کو مجبور کرنا پڑتا ہے ، یہی وہ راز ہے جس سے انسان کا سفر ہمیشہ بلندی کی طرف جاری رہتا ہے۔ وہ کبھی ٹھوکر نہیں کھاتا اور نہ کبھی سخت مایوسی کا شکار ہونا پڑتا ہے؛ لیکن جذبات اور غیظ وغضب سے ہمیشہ انسان کو نقصان پہنچتا ہے، اس میں فائدے کا کوئی پہلو نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری قوتوں کے باوجود کبھی انتقامی جذبات سے کام نہیں لیا۔ قریش نے آپ کو گالیاں دیں، مارنے کی دھمکی دی، راستوں میں کانٹے بچھائے، جسمِ اطہر پر نجاستیں ڈالیں، گلے میں پھندا ڈال کر کھینچا، آپ کی شان میں ہزار گستاخیاں کیں؛ مگر کوئی ایسی مثال نہیں کہ غیظ و غضب سے بے قابو ہوکر آپ نے کوئی کارروائی کی ہو، اگر آپ چاہتے تو ایک اشارہ میں ہزاروں خون آشام تلواریں نکل سکتی تھیں جو آپ کی شان میں گستاخی اور بے ادبی کرنے والوں کا کام تمام کرنے کے لیے کافی ہو جاتیں؛ مگر قربان جائیے رحمت ِ دوعالم ﷺ پر جنہوں نے اس راہ کو اختیار کیا اور نہ مسلمانوں کو اس کی ہدایت دی؛ بلکہ موقع بہ موقع آپ صحابہٴ کرام کے جذبات کو سکون دینے کی کوشش کرتے اور انھیں صبر و ضبط تواضع و بردباری کا سبق سکھاتے رہتے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.