بیس شعبان تیسرے اتوار کو یہ وظیفہ لازمی کر یں ۔

آج ہم اللہ تعالیٰ کے ایک اسمِ مبارک یا قھارُ جس کا مطلب ہے اے غلبا ء دینے والے کی فضیلت خواص اور وظائف کے بارے میں بتا ئیں گے اللہ کے ناموں کی فضیلت اور خواص بہت زیادہ ہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فر ما تے ہیں جس کا مفہوم ہے جو لوگ ایمان لا ئے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن رہے جان لو کہ

اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینا ن نصیب ہو تا ہے حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ رسول ﷺ نے فر ما یا اللہ تعالیٰ کے کسی شخص پر ق ی ا م ت نہ آئے گی یعنی جب ق ی ا م ت آئے گی تو دنیا میں کوئی بھی اللہ اللہ کرنے والا نہ ہوگا۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا کہ قیا مت اس وقت بر پا ہو گی جب دنیا میں اللہ اللہ کہنے والا کوئی نہ رہے گا ان دونوں روایات کو امام مسلم نے ذکر کیا ہے اس آیت ِ کریمہ اور ان احادیث کی روشنی میں اس بات کا اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ ذکر کی کیا فضیلت ہے اور اس کے کیا خواص ہیں اب ہم آپ کو اللہ کے اسمائے مبارک یا قھارُ جس کا مطلب ہے اے غلبا ء پانے والے اس کے وظائف کے بارے میں بتا تے ہیں اللہ تعالیٰ کے اسمائے مبارک یاقھارُ کے دو وظائف آپ کے سامنے بیان کر یں۔ گے پہلا جو عمل ہے وہ یہ ہے اگر کوئی شخص دنیا کی محبت

میں گ رف تار ہو تو اس شخص کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے مبارکہ یا قھارُ کو روزانہ تین سو تیراہ مرتبہ روزانہ پڑھے اس عمل کی بر کت سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت سے اس کا دل مامور ہو گا یعنی اس عمل کی بر کت سے اس کے دل میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت اجاگر ہو گی اللہ تعالیٰ کے اسمائے مبارک کا جو دوسرا عمل ہے وہ جادو ٹونے آسیب کو ختم کرنے کے لیے مجرب عمل ہے۔ اگر کسی پر جادو ٹونا آسیب کے اثرات ہیں یہ اسم چینی کی پلیٹ پر لکھ کر اس کو پلا یا جا ئے تو انشاء اللہ فوراً آسیب کے اثرات ختم ہو جا ئیں گے اور اگر گھر میں آسیب یا موذی بیماری ہو تو اس اسم کو روزانہ گیارہ روز تک گیارہ ہزار مرتبہ پڑھ کر پانی دم کر کے دیواروں پر چھڑکا جا ئے تو اس گھر سے آسیب کے اثرات ختم ہو جا ئیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے کسی بھی اسم کا ورد کر تے وقت آپ کے دل میں کسی قسم کا شک نہیں ہو نا چاہیے آپ کا یقین کامل ہو نا چاہیے تب ہی اس عمل کا اس وظیفے کو کرنے کا فائدہ ہو گا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *