بارہ رمضان اتوار کو یہ وظیفہ لازمی کر یں۔ یَا لَطِیفُ پڑھنے کے فوائد۔ بڑی سے بڑی درپیش حاجت پوری ہو گی۔

آج ہم آپ کو اللہ تعالیٰ کے ایک اسمائے مبارک کی فضیلت خواص اور وظائف کے بارے میں بتائیں گے اللہ تعالیٰ کے ناموں کے ذکر کی فضیلت اور برا کات بہت زیادہ ہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر اطمیناِ قلب اور راحتِ جان کا سبب ہے نبی کریم ﷺ نے بار بار ارشادات سے ذکر ِ اللہ کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ ذکر کے بارے

میں حدیث بیان کی جا تی ہے تا کہ اہلِ ایمان احکامات ِ نبوی پر عمل کر کے محافلِ ذکر کا اہتمام کر یں ذکر ِ الٰہی یادِ الٰہی سے عبادت ہے ذکرِ الٰہی کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ ہر وقت اور ہر حالت میں اُٹھ بیٹھتے اور لیٹتے اپنے محبوبِ حقیقی کو یاد رکھے۔ اور اس کی یاد سے کبھی غافل نہ ہو۔ صوفیاء کرام کے ہاں ذکرِ الٰہی کا مفہوم بہت بلند ہے حضرت سلطان باہو ؒ فرما تے ہیں جو دم غافل سو دم کا ف ر سانو مرشد اے پڑ ھا یا ہو انسان کا ایک ایک سانس اللہ کی یاد میں مصروف ہو اس کا ایک ایک لمحہ بھی غفلت کا نظر نہ ہو۔ ورنہ کف ر لازم آ ئے گا۔ یہی سبق ہمیں مرشدِ کامل نے پڑ ھا یا۔ حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی ؒ لوگوں سے خطاب کر تے ہو ئے ذکر کا مفہوم بیان فر ما تے ہیں اے سامعین تم اپنے اور خدا کے درمیان ذکر کے دروازے کھول لو خدا کا ذکر کیا کر و یہاں تک کہ ذکرِ الٰہی ان سے ان کے بو جھ کو دور کر دیتا ہے خلاصہ ِ کلام یہ ہوا کہ ذکر یادِ الٰہی کا وہ طریقہ ہے۔ جس سے انسان کو اپنے حالت و

مالکِ حقیقی کی معرفت اور پہچان نصیب ہو تی ہے اس دورِ مدیت میں ہمارے حوالے زندگی مجموعی طور پر بگاڑ کر شکار ہے۔ ہماری روحیں بیمار ہیں اور دل زنگ آلودہ ہو چکے ہیں اللہ سے ہمارا تعلق ہی بندگی ہے حقیقتاً مدہم ہو چکا ہے ہمارا باطن کی دنیا کو حرص و حوس بغض کینہ اور حسد عیش و عشرت سہل پسندی خودغرضی مفاد پرستی انا پر ستی نے آلودہ کر رکھا ہے۔ لہٰذا ان بگڑے ہو ئے احوال کو درست کر نے بیمار روحوں کو صحت یاب کر نے آئینہ دل کو شفاء کر نے قلب و باطن کو نورِ ایمان سے منور کرنے احوالِ حیات کو روحانی انقلاب کی مہک سے ما مور کر نے اور محبوبِ حقیقی سے ٹوٹے تعلق کو دوبارہ بہال کرنے کی ضرورت نا گزیر ہے اور اس کا واحد ذریعہ ذکرِ الٰہی ہے۔ ذکرِ الٰہی ہر عبادت کی اصل ہے تمام جن و انسانوں کی تخلیق کا مقصد عبادتِ الٰہی ہے اور تمام عبادتوں کا مقصود اصلی یادِ الٰہی ہے کوئی عبادت اور کو ئی نیکی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور یاد سے خالی نہیں ہے سب سے پہلی فرض عبادت نماز کا بھی یہی مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کو دوہم حاصل ہو اور وہ ہمہ وقت جاری رہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *