اپنی تھوک پر چھوٹی سی صورت پڑ ھ کر اپنے منہ پر لگا ؤ اور ہر کریم چھوڑ دو

یہ جو ہماری بہنوں کے چہروں پر بہت ہی زیادہ تعداد میں دانے بن جاتے ہیں پھنسیاں بن جاتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بہت سے ایسے داغ دھبے بن جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی جلد بہت ہی غیر رونق ہو جاتی ہے ان کی جلد میں ذرا سی بھی رونق نہیں رہتی ہے یہاں ایک بات کہنا لازمی سمجھتا ہوں کہ اللہ پاک کی

طرف سے اچھی جلد بہت ہی بڑی نعمت ہے ہمیں اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے ہمیں صرف اور صرف اس نعمت کی ہی نہیں ہمیں ہر نعمت کی قدر کرنی چاہیے تا کہ ہم اس کی ان گنت نعمتوں کا شکریہ ادا کر سکیں۔ کہا جا تا ہے کہ ہم نے انسان کو ایک بہت ہی خوبصورت چہرے کے ساتھ پیدا کیا ہے ہم نے اس کا چہرہ بہت ہی زیادہ خوبصورت بنا یا ہے سو ہمیں اس کی تخلیقات کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے اور اپنے رب کا شکریہ ادا کر نا چاہیے تو ہم آتے ہیں آج کے مو ضوع کی طرف آج کا موضوع ہے کہ جن بہن بھائیوں کے چہرے پر داغ دھبے ہو جاتے ہیں جن بھائیوں کے چہر وں پر با ہر باہر پھر پھر کر چہرے پر مختلف قسم کے داغ دھبے ہو جاتے ہیں جو بہت سی کریمیں لگانے کے ساتھ بھی نہیں جاتے تو ایسے بہن بھائی کیا کر یں تو ان کے لیے ایک ایسا قرآنی علاج لے کر آیا ہوں کہ جس کی مدد

سے وہ اپنے اس مسئلے سے بہت ہی جلدی چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔ اور اس بات کو بھی یقینی بنا سکتے ہیں کہ ان کی جلد اب کبھی بھی ان مسائل کا شکار نہیں ہوگی۔ ہر عورت اور ہر مرد کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی اعلیٰ سے اعلیٰ شخصیت ہونی چاہیے اور اس شخصیت کو برقرار رکھنے کے لیے نا جانے وہ کتنے ایک جتن کر تا ہے مگر نا کام رہتا ہے اور ا ن تمام اقسام کے جتن کرنے کے باوجود کوئی بھی رزلٹس نہ حاصلکرنے کے بعد بہت ہی زیادہ پریشان ہوتے ہیں تو ایسے بہن بھائیوں کے لیے ایسے پریشان بہن بھائیوں کے لیے ایک ایسا نسخہ لا یا ہوں کہ جس کے استعمال سے وہ اپنے اس مسئلے کو بہت ہی جلدی دور کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے کوئی کریم نہیں چاہے بے شمار بہنیں اپنے چہرے کو بغیر کسی کریم کے بغیر کسی دوائی کے سو فیصد صاف ستھرا کر سکتی ہیں صرف سجدہ لمبا کرو۔ صرف سجدہ کرو۔ جب سجدہ کرو سارا خون کہاں آئے گا چہرے پر آئے گا خون کا کام ہے انرجی دینا جب سجدہ کر و گے و ہ چہرے پر آئے گا وہ چہرے کی جتنی بھی گندگیاں ہیں اس کو اپنے اندر جذب کر لے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *