جب قرآن پاک میں ایک لفظ کی تبدیلی کے لئے 10 یہودی حجاج بن یوسف کے پاس آئے

قرآن کریم کے بارے میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اللہ نے اس کی حفاظت کی خود ذمہ داری اُٹھائی یہ بہت بڑی چیز ہے جس کی حفاظت اللہ کرے دنیاکی کوئی طاقت نہیں ہے کہ اس کے اندر کوئی ردو بدل کر سکے اس کے معاملے میں صرف دو باتیں ہیں آپ اندازہ لگائیں گے کہ واقعی دنیاکی کوئی طاقت ایسی نہیں ہے اور نہ ہی قیامت

تک ایسی کوئی طاقت آئے گی جو قرآن کریم کے ایک زبر زیر کے اندر بھی فرق کر سکے عرب کے اندر یہ مشہور تھا کہ جب کوئی نیا کلام کسی کا ہوتا شعراء کے بڑے بڑے اونچے کلام ہوا کرتے تھے وہ بیت اللہ کے ساتھ آ کر لٹکا دیتے تھے اور جب اس کا کوئی جواب دیتا تو پھر اسے اتارتے ورنہ کئی کئی دن کئی کئی ہفتے کئی کئی مہینے وہ کلام لٹکا رہتا جب قرآن کریم کی یہ سورت انا اعطینک الکوثر فصل لربک وانحر ان شانئک ہوالابتر نازل ہوئی کسی نے اسے اپنا کلام ظاہر کر کے بیت اللہ کے ساتھ لٹکا دیا اور نیچے لکھ دیا کہ یہ تین مصرعے ہیں چوتھا اس کے بناؤ اب کئی مہینے گزر گئے کون بنائے کسی کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی بات عیسائیوں کا ایک بہت بڑا عالم تھا بہت بڑا پادری تھا جو لوگوں سے تنگ آکر ایک پہاڑ کے اندر ایک غار میں جا کر چھپ گیا اور اس نے یہ کہہ دیا کہ میرے ساتھ کوئی بندہ آکر کلام نہ کرے جس نے کوئی بات پوچھنے ہو وہ ایک کاغذ پر لکھ کر غار کے دروازے میں چھوڑ دے اور دوسرے دن آکر اس کا جواب لے لے کسی بندے نے اسے اپنا کلام ظاہر کر کے ان تینوں آیتوں کو لکھ کر وہاں چھوڑ دیا لکھا تھا انا اعطینک الکوثر فصل لربک وانحر ان شانئک ھو الابتر نیچے لکھ دیا یہ

تین مصرعے میں نے بنائے ہیں چوتھا تم بناؤ اب دوسرے دن وہ جواب لینے گیا نیچے چوتھا مصرع لکھا ہوا ہے لیس ھذا قول البشر یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہے وہ سمجھ گیا کہ واقعی اس کا کوئی جواب نہیں دے سکتا اس جیسا کوئی کلام بنا نہیں سکتا اسی قرآن کریم کا ایک بہت بڑا چیلنج ہے ان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتو بسورۃ من مثلہ اگر تم اس کتاب میں جو ہم نے اپنے بندے کے اوپر نازل کی شک سمجھتے ہو تو اس کی مثل کوئی چھوٹی سی سورت لے آؤ وادعو ا شہدائکم اور اپنے مدد گاروں کو بھی بلا لو ان کنتم صادقین اگر تم سچے ہو آگے اللہ نے خود جواب دیا فان لم تفعلو ا تم ہر گز ایسا نہیں کر سکو گے بالکل کر ہی نہیں سکو گے دوبار تاکید کر کے کہہ دیا یعنی اس کی مثل کوئی لا ہی نہیں سکتا اور دوسری بہت بڑی بات یہ ہے کہ اللہ رب العزت جب کام لینے آئیں تو بڑے سے بڑے ظالم اور جابر آدمی سے بھی کام لے لیتے ہیں اور اگر کام لیں کسی حقیر چیز سے چھوٹی سی چیز سے بھی کام لے لیتے ہیں جیسے ابابیلوں سے اللہ نے ہاتھیوں کے لشکروں کو تباہ کر دیا ان کو ختم کروادیا حجاج بن یوسف ایسا ظالم اور جابر بادشاہ گزرا ہے اس کی ت ل و ا ر سے کئی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خ و ن کے قطرے ٹپکے اب اس سے اللہ نے بہت بڑا یہ کام لیا قرآن کریم کے اوپر زبریں زیریں نہیں تھیں اعراب نہیں لگے ہوئے تھے نقطے نہیں تھے حجاج

بن یوسف نے علماء کو اکٹھا کیا اور کہا یہ کام کرنا ہے آپ کے لئے کھانے کا انتظام ہو گا آپ کے گھر والوں کے لئے خرچے کا انتظام ہو گا جتنا بھی وقت لگ جائے پورے قرآن کے اوپر اعراب لگانے ہیں زبریں زیریں لگانی ہیں تا کہ عجمی لوگ بھی آسانی سے پڑھ لیں دوسرے لوگوں کے لئے بڑی دقت ہے بڑی دشواری ہے بغیر زبر زیر کے پڑھنا بہت مشکل ہوتا ہے یہ کام شروع ہوگیا یہود کے چند آدمی دس آدمیوں کی ایک جماعت جن میں یہودی علماء بھی تھے وہ حجاج بن یوسف کے پاس آئے آکر کہنے لگے آپ دین کا کام کررہے ہیں اپنی کتاب کا کام کررہے ہیں اعراب لگوار ہے ہیں زبریں زیریں لگارہے ہیں ہماری ایک چھوٹی سی درخواست ہے حجاج نے کہا بتاؤ کیا بات ہے وہ کہنے لگے سورہ کہف کے اندر ایک لفظ ہے فابوان یضیفوھما حجاج بن یوسف نے کہا ہاں بلکل ہے اس کا مطلب ہے کہ دو پیغمبر ایک بستی میں آئے اس بستی سے انہوں نے کھانا مانگا ان لوگوں نے بستی والوں نے کھانا دینے سے انکار کر دیا اس کا معنی یہ یعنی انہوں نے انکار کردیا ان دونوں کی ضیافت کرنے سے ان کی مہمان نوازی کرنے سے ان کو کھانا دینے انکار کر دیا اب ان لوگوں نے کہا یہود کے جو دس آدمی تھے ان میں علماء بھی تھے کہنے

لگے آپ چھوٹا سا ایک کام کر دیں یہ جو ابو کا ب کا نقطہ اوپر کر دیں اور ایک نقطہ اور لگا دیں یعنی ایک نقطے کا آپ نے اضافہ کرنا ہے ایک نیچے سے اوپر کرنا ہے فابو کی جگہ پھر بن جائے گا فاتو اس کے معنی ہیں انہوں نے کھانا دے دیا ان کی مہمان نوازی قبول کر لی ان کی ضیافت کردی بس یہ چھوٹا سا کام کرنا ہے ایک نقطہ نیچے سے اوپر کرنا ہے اور ایک اپنی طرف سے لگانا ہے ہمارا کام بن جائے گا آپ کا کچھ نہیں بگڑے گا ورنہ قیامت تک جب تک یہ قرآن رہے گا ہماری بے عزتی رہے گی یہ چھوٹا ساکام کریں حجاج نے بڑے تحمل سے ان کی بات سنی اور دل میں کہا کہ میں اتنا بڑا کام کررہا ہوں اور مجھے اس کام سے یہ روک رہے ہیں اور غلط فائدہ اس سے اٹھا رہے ہیں حجاج بن یوسف نے کہا اندر جاؤ کھانے تیار ہیں کھانا کھاؤ اور خود اپنے گھر چلا گیا ت ل و ا ر لے کر باہر آگیا وہ کھانا کھا کر آئے ایک لائن میں کھڑا کر کے سب کے سر قلم کر دیئے اور کہنے لگا جو مجھے قرآن کریم کے اندر تبدیلی کا کہتا ہے ان کا علاج یہی ہے سب کا وہیں صفایا کردیا یہ اللہ نے اس ظالم اور جابر بادشاہ سے کتنا بڑا کام لیا ہے یہ قرآن پاک کی حفاظت ہے ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *