“اَلْعَلِیُّ”کی فضیلت و برکت

جو شخص اس اسم مبارک کو ہمیشہ پڑھتا رہے اور لکھ کر اپنے پاس رکھے اسے رتبہ کی بلندی، خوشحالی اور مقصد میں کامرانی نصیب ہوگی۔ اگر اس اسم ِ مبارک کو لکھ کر بچے کے باندھ دیا جائے تو جلد جوان ہو۔ اگر مسافر اپنے پاس رکھے تو جلد اپنے عزیزوں سے ملے۔ اگر محتا ج اپنے پاس رکھے تو غنی ہوجائے۔ جو اس

اسم کو ورم یعنی سوجن پر تین بارپڑھ کر پھونکے گا انشاءاللہ صحت پائے گا۔ اگر فقیر اسے ایک سو دس بار پڑھے تو غنی ہوجائے اور دنیا میں عزت پائے۔ یہ اسم مشائخ بزرگوں، طلبہ اور سالکین کے لئے ایک روحانی خزانہ ہے۔ اگر اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا نام بھی ملا لیا جائے تو یہ بڑے اذکار میں شمار ہوتا ہے۔ بعض مشائخ کے نزدیک “یاعلی یا عظیم یا حلیم یا علیم” کا مجموعہ اسم عظم ہے۔ فقد قال اللہ تبارک وتعالیٰ فی القرآن الحکیم وکتابہ المجید أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔( وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا ) [الأعراف: 180]“اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو ۔”اللہ کے بندو! بغیر تحریف وتشبیہ اور تعطیل کے اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ وصفات علیاپر ایمان، ایمان باللہ کاحصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کے سلسلے میں چند باتیں جاننا ضروری ہیں:اول یہ کہ اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء توقیفی ہیں ، ان میں کسی عقلی توجیہ وتاویل کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کے سلسلہ میں کتاب وسنت پر توقف ضروری ہے ۔دوم یہ کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء کسی متعین تعداد میں محصور نہیں ۔سوم یہ کہ اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء حددرجہ اچھے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:( وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ) [الإسراء: 36]“ اور جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو ، اس کے پیچھے مت پڑ”مشہور حدیث میں ہے کہ:“أسالک بکل اسم ھو لک سمیت بہ

نفسک، أو أنزلتہ فی کتابک، أو علمتہ أحدا من خلقک، أو استخلصت بہ فی علم الغیب عندک” (أحمد وابن حبان وحاکم، حدیث صحیح)“ اے اللہ! میں تجھ سے تیرے ہر اس نام سے سوال کرتا ہوں جس سے تو نے خود کو موسوم کیا ہے، یا اس کو اپنی کتاب میں نازل کیا ہے یا اپنی کسی مخلوق کو سکھایا ہے۔ یا اپنے پاس کے علم غیب میں تو نے اس کو خاص کیا ہے۔”اللہ تعالیٰ نے جس نام کو علم غیب میں خاص کیا ہے کسی کے لیے اس کا حصر واحاطہ ممکن نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:( وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا ) [الأعراف: 180]“اللہ ہی کے اچھے نام ہیں تو تم اس کو ان ناموں سے پکارو۔”اللہ تعالیٰ کے اچھے ناموں میں سے چند نام یہ ہیں:اللہ:یہ اسم ذات ہے۔ اللہ ایک ایسی ہستی کا نام ہے جس کی دل محبت وچاہ اور تعظیم کے ساتھ بندگی کرتے ہیں ۔الرحمن الرحیم :وہ ذات ہے جو اپنے بندوں پر، ماں کی اپنی اولاد پر مہربان ہونے سے زیادہ شفیق ومہربان ہے، چنانچہ جو بھی نعمت موجود ومیسر ہے، وہ اس کی رحمت ہے اور جو بھی مصیبت وپریشانی دور ہوتی ہے، وہ اسی کی مہر بانی سے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:( وَمَا بِكُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ) [النحل: 53]“تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں سب اللہ ہی کی دی ہوئی ہیں ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *