کیا نیند میں گندے خواب دیکھنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟

احت لام مرد و خواتین کی جن سی قوت زائل کرنے کا سبب بنتا ہے، یہ انسان کے کنٹرول میں نہیں ہوتا، اور انسانی طبیعت کے مطابق دوران نیند احت لام ہوتا ہے، اس پر انسان کیلئے کوئی مؤاخذہ بھی نہیں کیا جاسکتا؛ کیونکہ سویا ہوا شخص قابل باز پرس نہیں ہے، اگر رمضان میں دن کے

وقت م نی احتل ام کی وجہ سے خارج ہوئی ہے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، کیونکہ یہ معاملہ انسانی طاقت سے باہر ہے، اور انسان اسے روک نہیں سکتا، کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: (اللہ تعالی کسی کو اسکی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتا)۔ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر احت لام ہوجائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، کیونکہ یہ انسانی اختیار میں نہیں ہوتا، تو یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے سوئے ہوئے آدمی کہ حلق میں کوئی چیز داخل ہوجائے۔دائمی فتوی کمیٹی سے بھی ایک شخص کے بارے میں پوچھا گیا جسے رمضان میں دن کے وقت احتل ام ہوگیا، تو اسکا کیا حکم ہے؟تو کمیٹی نے جواب دیا: جس شخص کو روزے یا حج و عمرہ کی حالت میں احت لام ہوجائے، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی کفارہ ہے، احت لام سے اسکا روزہ بھی متأثر نہیں ہوگا، اور من ی خارج ہونے کی صورت میں غسل جنابت کرنا ہوگااور اگر رمضان میں دن کے وقت م نی جاگتے ہوئے کامل ہوش وحواس کیساتھ مش ت زنی کی وجہ سے خارج ہوئی ہو تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا، اس گن اہ پر اللہ سے توبہ کرنا بھی لازمی ہوگا۔مش ت زنی حرام کام ہے، ، اور آپ کو رمضان میں دن کے وقت م شت زنی کا ارتکاب کرنے سے بھی توبہ کرنی ہوگی، کیونکہ اس جرم سے روزے کی حرمت کو

پامال کیا گیا ہے، اور توبہ کرنے بعد اس دن کے بدلے میں ایک اور روزہ قضا کے طور پر رکھنا ہوگا۔شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں: روزہ رکھ کر عمدا مش ت زنی سے من ی خارج ہونے پر روزہ باطل ہوجائے گا، چنانچہ فرض روزہ ہونے کی صورت میں قضا اور اللہ سے گناہ پر توبہ کرنا لازم ہوگی، کیونکہ مش ت زنی روزہ ہو یا نہ ہو، ہر حالت میں ناجائز ہے، اسی کو عرب لوگ عادہ سریہ کہتے ہیں۔شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں: روزہ دار مش ت زنی کرے تو انزال ہونے پر روزہ ٹوٹ جائے گا، اور اس پر اِس دن کی قضا دینا لازمی ہوگا، لیکن اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے، کیونکہ کفارہ صرف جم اع کی صورت میں ہی واجب ہوتا ہے، اور اسے اپنے گن ا ہ سے توبہ بھی کرنا ہوگی صورت مسئلہ میں سائل کیلئے معاملہ پیچیدہ ہوگیا ہےکہ اسے نہیں معلوم کہ م نی اح تلام کی وجہ سے خارج ہوئی ہے یا م شت زنی کی وجہ سے، تو ایسی صورت حال میں احت لام ہی کو ترجیح دی جائے گی، کیونکہ سوئے ہوئے شخص کے بارے میں اصل یہی ہے کہ وہ بری الذمہ ہے، اور مکلف بھی نہیں ہے، چنانچہ اسی اصول پر عمل کیا جائے گا، اور اس اصول کی تردید یقینی بات سے ہی ہوسکتی ہے قیاس آرائی سے نہیں ہوگی۔بلکہ اگر م نی نیند کے دوران آلہ تناسل کیساتھ چھیڑ چھاڑ کی وجہ سے بھی خارج ہوئی ہو تب بھی حکم تبدیل نہیں ہوگا کیونکہ سوئے ہوئے شخص کا کوئی بھی عمل قابل مؤاخذہ نہیں ہے، کیونکہ سویا ہوا شخص مکلف ہی نہیں ہوتا۔چنانچہ شمس الدین الاصفہانی کہتے ہیں: می ت، سویا ہوا شخص ، اور غافل تینوں کے مرفوع القلم یعنی ناقابلِ مؤاخذہ ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے، اس لئے کہ عقلی طور پر ہم جانتے ہیں کہ مکلف ٹھہرانے کی شرط عقلمندی ہے، چنانچہ جس طرح می ت مکلف نہیں ہوتی، اسی طرح سویا ہوا یا غافل شخص بھی مکلف نہیں ہوسکتا۔اسی طرح نیند میں برے خیالات سے اح تلام ہونے پر بھی کوئی گ ن ا ہ نہیں ہے اور روزہ بھی نہ ٹوٹے گا بلکہ جلد از جلد پاکی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *