روزہ توڑنا کس صورت میں جا ئز ہے کس صورت میں روزہ توڑنا جا ئز ہے

اگر طبیب کی رائے میں روزہ دار کا روزہ کی حالت میں خون لینے میں روزہ دار کے لیے جان کا یاکسی بڑی مصیبت کا خطرہ تھا اور کسی انسان کی جان بچانے کے لیے روزہ دار کا خون لینے کے علاوہ کوئی راستہ نہ تھا تو اس صورت میں روزہ دار نے طبیب کی ہدایت پر جو روزہ توڑا، اس پر صرف قضا کا حکم

ہوگا، کفارہ واجب نہ ہوگا اگر ناقابل برداشت حالت ہوجائے تو ایسی حالت میں روزہ توڑنے سے صرف قضاء واجب ہوگی، کفارہ واجب نہ ہوگا۔ اگر آپ سے آپ قے آگئی تو روزہ نہیں گیا، خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ، اور اگر خود اپنے اختیار سے قے کی اور منہ بھر کر ہوئی تو روزہ ٹوٹ گیا، ورنہ نہیں۔اگر روزہ دار اچانک بیمار ہوجائے اور اندیشہ ہو کہ روزہ نہ توڑا تو جان کا خطرہ ہے، یا بیماری کے بڑھ جانے کا خطرہ ہے، ایسی حالت میں روزہ توڑنا جائز ہے۔اسی طرح اگر حاملہ عورت کی جان کو یا بچے کی جان کو خطرہ لاحق ہوجائے تو روزہ توڑ دینا دُرست ہے۔بیماری کی وجہ سے اگر روزے نہ رکھ سکے تو قضا کرے آپ نے رمضان کا جو روزہ توڑا وہ عذر کی وجہ سے توڑا، اس لئے اس کا کفارہ آپ کے ذمہ نہیں، بلکہ صرف قضا لازم ہے۔ اور جو روزے آپ بیماری کی وجہ سے نہیں رکھ سکیں ان کی جگہ بھی قضا روزے رکھ لیں، آئندہ بھی اگر آپ رمضان مبارک میں بیماری کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکتیں تو سردیوں کے موسم میں قضا رکھ لیا کریں، اور

اگر چھوٹے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رہی تو اس کے سوا چارہ نہیں کہ ان روزوں کا فدیہ ادا کردیں، ایک دن کے روزے کا فدیہ صدقہٴ فطر کے برابر ہے۔ رمضان شریف کے روزے ہر عاقل بالغ مسلمان پر فرض ہیں، اور بغیر کسی صحیح عذر کے روزہ نہ رکھنا حرام ہے۔اگر نابالغ لڑکا، لڑکی روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں تو ماں باپ پر لازم ہے کہ ان کو بھی روزہ رکھوائیں۔جو بیمار روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو، اور روزہ رکھنے سے اس کی بیماری بڑھنے کا اندیشہ نہ ہو، اس پر بھی روزہ رکھنا لازم ہے۔ اگر بیماری ایسی ہو کہ اس کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتا یا روزہ رکھنے سے بیماری بڑھ جانے کا خطرہ ہو تو اسے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے، مگر جب تندرست ہوجائے تو بعد میں ان روزوں کی قضا اس کے ذمہ فرض ہے۔ جو شخص اتنا ضعیف العمر ہو کہ روزے کی طاقت نہیں رکھتا، یا ایسا بیمار ہو کہ نہ روزہ رکھ سکتا ہے اور نہ صحت کی اُمید ہے، تو وہ روزے کا فدیہ دے دیا کرے، یعنی ہر روزے کے بدلے میں صدقہٴ فطر کی مقدار غلہ یا اس کی قیمت کسی مسکین کو دے دیا کرے، یا صبح و شام ایک مسکین کو کھانا کھلادیا کرے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *