رمضان کے پہلے عشرے کا خاص عمل۔

ماہ رمضان کا پہلا عشرہ جاری ہے اور اس کے کچھ روزے گزر چکے ہیں لیکن ابھی کافی اس کے دن پڑے ہیں پہلے عشرے کے تو سورۃ فاتحہ کی صورت میں بہت ہی مجرب اور مستند عمل لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہیں پس دعا کیا کر یں کہ اللہ کریم عالمِ اسلام کی خیر فر ما ئے مالکِ کریم نبی ِ ﷺ کا صدقہ

ہم سب کو عزتوں اور سلامتیوں سے ما لا مال فر ما ئے۔ میں نماز میں مشغول تھا تو رسول کریم ﷺ نے مجھے بلا یا تو ا سلیے میں کوئی جواب نہیں دے سکا پھر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں نمازپڑھ رہا تھا۔ تو اس پر حضور ﷺ نے فر ما یا کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم نہیں فر ما یا کہ اللہ کے رسول ﷺ جب تمہیں پکاریں تو ان کی پکار پر اللہ کے رسول کے لیے لبیک فر ما یا کرو۔ پھرآپ نے فر مایا کہ مسجد سے نکلنے سے پہلے پہلے قرآن کی سب سے بڑی سورۃ کیوں نہ سکھا دوں پھر آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور جب ہم مسجد سے با ہر نکلنے لگے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ نے ابھی فر ما یا تھا کہ مسجد کے باہر نکلنے سے پہلے آپ مجھے قرآن کی سب سے بڑی سورۃ بتا ئیں گے تو آپ ﷺ نے فر ما یا ہاں وہ سورۃ الحمد اللہ رب العالمین ہے ۔ یہی وہ سات آیات ہیں ہر

نماز میں بار بار پڑ ھی جا تی ہیں اور یہی وہ قرآنِ عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا۔ حضرت ابو سید خدری ؓ بیان کر تے کہ ہم ایک فوجی سفر میں تھے تو ہم نے ایک قبیلے کے نزدیک پڑاؤ کیا اور پھر لونڈی آ ئی کہ قبیلے کے سردار کو ب چھو نے کاٹ لیا ہے اور ہمارے قبیلے کے مرد موجود نہیں ہیں کیا تم میں کوئی بچ ھو کا جاڑ پھونک کرنے والا ہے تو ایک صحابی خود اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے ان کو معلوم تھا کہ وہ جاڑ پھونک نہیں جانتے لیکن انہوں نے قبیلہ کے سردار کو جھاڑا تو اسے صحت ہو گئی تو انہوں نے اس کے شکرانے میں تیس بکریاں دینے کا حکم دیا ۔ اور انہیں دودھ پلا یا جب وہ جاڑ پھونک کر کے واپس آئے تو ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا تم واقعی کوئی منتر جانتے ہو انہوں نے کہا نہیں میں نے تو صرف سورۃ الفاتحہ پڑھ کر دم کر دیا تھا ہم نے کہا کہ اچھا جب تک رسولِ کریم ﷺ سے اس کے متعلق نہ پو چھ لیں تو ان بکریوں کے بارے میں اپنی طرف سے کچھ نہ کہو چنانچہ ہم نے مدینہ پہنچ کر کریم ﷺ کی خدمت میں جب یہ بات ذکر کی تو آپ ﷺ نے فر ما یا کہ سورۃ فاتحہ منتر بھی ہے یہ سب تم نے کیسے جا نا ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *