رمضان شریف کے پہلے عشرہ کاوظیفہ

رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کے بعد اس ماہِ مبارک کے حوالے سے ادا کیا جانے والا سب سے پہلا عمل تراویح کی نماز ہے، جس کے لیے اہل ِایمان ذوق و شوق سے مساجد کا رخ کرتے ہیں، جہاں بعد نمازِ عشاء عشق و محبت کی معطّر فضائوں سے سرشار تراویح کے ایمان افروز روحانی اجتماعات میں کیف و سرور کی لذتوں

سے بھرپور حفّاظِ کرام کی مسحور کن تلاوتِ کلام پاک روح پرور سماں باندھ دیتی ہے اور سامعین حبّ الٰہی اور عشقِ مصطفیٰؐ میں ڈوب کر ان پاکیزہ ساعتوں میں محو ہو جاتے ہیں۔ قیامِ لیل میں تراویح کی بڑی فضیلت ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم20رکعت تراویح اور وتر پڑھا کرتے تھے۔ نمازِ تراویح باقاعدہ جماعت سے پڑھنے کا نظام حضرت عمر فاروقؓ کے عہد سے شروع ہوا۔ تراویح کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ روزانہ تراویح باجماعت پڑھنے کے ثواب کے علاوہ مہینے میں کم از کم ایک بار پورا قرآن سننے کا شرف اور ثواب حاصل ہوجاتا ہے۔ تراویح کی نماز، رمضان کے پورے مہینے پڑھنی چاہیے، اگرچہ قرآن شریف پہلے ہی ختم ہو چکا ہو۔ عموماً لوگ ختم ِقرآن کے بعد تراویح کی نماز ترک کر دیتے ہیں، جو درست نہیں۔ رمضان کے مبارک مہینے میں تہجّد کا اہتمام بھی بہت آسانی سے کیا جاسکتا ہے، اس کے لیے سحری سے بیس

منٹ قبل اٹھ کر تہجد کی نماز ادا کی جاسکتی ہے،جو قربِ الٰہی اور قبولیتِ دعا کا بہترین وقت بھی ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل تہجّد کی نماز ہے۔ سحری کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سحری کھایا کرو، سحری کھانے میں برکت ہے، کچھ نہ ہو، تو چند گھونٹ پانی ہی پی لیا کرو۔ اس ماہِ مبارک میں زیادہ تر لوگ باجماعت نماز کی طرف راغب ہوجاتے ہیں، باجماعت نماز کی ادائیگی مومن کی پہچان ہے۔ رسول اللہؐ نے فرمایا چالیس دن تک تکبیر ِاولیٰ کے ساتھ نماز با جماعت ادا کرنے والے کودوزخ اور نفاق دونوں سے دور کر دیا جاتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر لوگوں کو باجماعت نماز کے اجر و ثواب کا علم ہو جائے، تو وہ ہزاروں مجبوریوں کے باوجود جماعت میں دوڑے آئیں۔حضرت بریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اشراق کی نماز کی ادائیگی کا اجر و ثواب ایک عمرے کی ادائیگی کے برابر ہے۔ اشراق کی چار رکعت نماز انسان کے تمام مصائب

و مشکلات کے زہر کا تریاق ہے۔ اشراق کے معنی ہیں، طلوعِ آفتاب۔ طلوعِ آفتاب کے کم از کم بارہ منٹ کے بعد اشراق کی نماز کا وقت ہو جاتا ہے۔چاشت کی نماز مستحب ہے۔ چاشت کی نماز، زوال کے وقت سے پہلے تک ادا کی جا سکتی ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی چار رکعت نماز ادا فرمایا کرتے تھے ۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے چاشت کی نماز کا اہتمام کیا، اس کے سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، چاہے وہ کثرت میں سمندر کے جھاگوں کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔ علاوہ ازیں، رمضان المبارک میں نماز مغرب کے بعد چھے رکعت نفل نماز کو بھی اپنا معمول بنا لیں، یہ نماز اوّابین کہلاتی ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔رمضان کے پہلے عشرے کو رحمت کا عشرہ کہا جاتا ہے اور اس عشرے میں اس دعا کی کثرت کرنی چاہئے رَبِّ اغُفِرُ وَارُحَمُ وَأَنُتَ خَیُرُ الرَّاحِمِينَ۔اے میرے رب مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *