رمضان المبارک کا احترام نہیں کرنے والے کا انجام

رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوںکے لئے سراپا ہدایت ہے اور (اس میں) ہدایت کی اور حق و باطل میں تمیز کرنے کی نشانیاں ہیں پس تم میں سے جو کوئی اس کوپائے تو وہ ضرور اس کے روزے رکھے۔رمضان المبارک فیوض و برکات کامہینہ ہے۔روزہ دراصل ایک روحانی تربیت ہے اسلام میں نماز ،روزہ،زکوٰۃ اور

حج کی عبادات فرض کی گئیں ہیں۔روزہ ان میں سے ایک ہے ۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر بہت سی چیزیں فرض کیں اور ان کیلئے شرائط بھی رکھ دیں تاکہ اس کے بندے ان شرائط کے ساتھ فرائض ادا کریں ۔ارکان اسلام میں روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کو تما م عبادات کا سردار کہا جا سکتا ہے ۔کیونکہ روزے دار بندہ صرف اپنے رب تعالیٰ کو خوش کرنے اور اسکا قرب حاصل کرنے کیلئے یہ عبادت کرتا ہے۔قرآن و سنت کے حوالے سے مختلف علمائے کرام نے بہت کچھ لکھا اور روزانہ ہم بہت کچھ پڑھتے اور سنتے ہیں مختصراً روزہ ہر مسلمان بالغ مرد اورعورت پر فرض ہے۔جس کسی نے دانستہ ایک فرض روزہ چھوڑ دیا وہ ساری زندگی روزے رکھتا رہے پھر بھی اس ایک چھوڑے ہوئے روزے کے برابر نہیں ہو سکتے ۔روزہ رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ انسان حلال روزی کمائے ۔ روزہ کھانے پینے کو ترک کر دینے کا نام نہیں بلکہ آنکھ ،دماغ ،منہ اور ہاتھ پائوں سمیت تمام اعضاء کا روزہ شامل ہے ۔روزہ دار اپنے جسم کے ہر عضو کو کنٹرول کرے ۔ماہ رمضان میں روزہ دارکی فرض نمازوں کا ثواب 70گنازائد کر دیا جاتا ہے ۔سنتوں کا ثواب فرائض اور نوافل کا ثواب سنتوں کے برابر کر دیاجاتا ہے ۔ماہ مبارک کے پہلے عشرے میں

رحمت دوسرے میں بخشش اور آخری عشرے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت کا اعلان ہو تا ہے ۔صرف افطاری کے وقت ایسے ہزاروں افراد بخش دئیے جاتے ہیں جن پر دوزخ واجب کر دی گئی ہو ۔رحمتوں ،بخششوں اور معافیوں کا سامان لیکر آنیوالے ما ہ صیام میں آج کل کیا ہو رہاہے ۔روایت کے مطابق سابقہ سالوں کی طرح اس سال بھی آمد رمضان المبارک سے قبل ہی اشیائے صرف سٹاک کرکے قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں۔ناجائز منافع خور تاجر اور دکاندار ایسی اشیا ء صرف جنہیں روزہ دار بطور خاص استعمال کرتے ہیںکی قیمتیں انتہائی حد تک بڑھا چکے ہیں گوشت، سبزیاں اورپھل ایک ہفتہ قبل ہی سے مہنگے داموں فروخت ہو رہے ہیں اب یکم رمضان المبارک سے ناجائزکمائی کا سیزن مزید زور شور کے ساتھ شروع ہو جائے گا ۔ دکاندارکبھی بھی انتظامیہ کے قابو میں نہیں آتے اور ہرسال اس مقدس مہینے میں من مرضی کی نئی قیمتیں مقرر کر کے فروخت کرتے ہیں ۔ہر حکومت ہر سال قیمتیں کنٹرول کرنے کی نوید سناتی رہی ہے رمضان بازاروں میں اشیائے خوردونوش پر سبسڈی دینے کے اعلانات سنائے جاتے ہیں ۔پرائس کنٹرول کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں اور چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دی جاتی ہیں مگر نتائج صفر ہی رہتے ہیں اور اس کے ثمرات عوام تک کبھی بھی نہیں پہنچے ۔کیونکہ انتظامیہ صرف نرخ ناموں کی فہرستیں لٹکانے پر زور دیتی ہے اور چند ایک قصابوں اور دیگر دوکانداروں کی دوکانوں پر چھاپے

مار کر فوٹو سیشن کی کاروائی مکمل کرتی ہے۔ جبکہ مکار ، عیار ، بدیانت تاجر اور اسی قماش کے دوسرے لوگ باز نہیں آتے جرمانے دینے کے باوجود اپنی ناجائز منافع خوری میں پہلے سے زیادہ حربے اختیار کرتے ہیں۔ ملک بھر میں ابھی سے بازار میں ہر چیز کی قیمت میں من مرضی سے اضافہ کر دیا گیا ہے اور سرکاری افسران خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ اکثر غیر مسلم ممالک میں بھی یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ وہ اپنے مذہبی اور دیگر تہواروں پر قیمتیں کم کر دیتے ہیں جبکہ اکثر مسلم ممالک میں بھی یہ روایت ہے کہ ماہ صیام کے تقدس کا خیال رکھا جاتا ہے کھاناپینا تو درکنار کھانے پینے والی اشیاء بازار میں کہیں نظر نہیں آتیںساتھ ہی اشیاء کی قیمتیں کم کر دی جاتیںہیں اور مارکیٹ میں اشیاء صرف وافر مقدار میںفراہم کر دی جاتی ہیں ۔مگر وطن عزیز میں کبھی ایسا نہیں ہوا ہے کئی عشروں سے لوٹ ماراور مصنوعی گراں فروشی کا دھندا دیکھنے میں آیاہے ۔ ہر سال ہسپتالوں ، اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں کے علاوہ شہری حدود میں کئی جگہوں پر دوکاندار دو چار قناتیں لگا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہاں کھانے پینے کو سب کچھ مل سکتا ہے اور اس طرح روزہ خور بڑے آرام سے ایسی جگہوں پر آ کر پیٹ پوجا کر لیتے ہیں ۔ لگتا ہے امسال بھی سارا دن فروٹ فروش، کھجوریں اور سموسے پکوڑے فروخت کرنے والے سرعام اپنا مال فروخت کریں گے کیونکہ ماضی میںکھانے پینے کی اشیا ء کی دن دیہاڑے

فروخت کھلے عام ہوتی رہی ہے اور روزہ خور بڑے آرام سے یہ اشیاء خرید کر کونے کھدرے میں بیٹھ کر کھا لیتے تھے اس سال بھی کوئی تبدیلی کے آثار نظر نہیں آرہے۔ یہ عالمی سازش ہے کہ کرکٹ کے عالمی مقابلے رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی راتوں میں ہی منعقد کئے جاتے ہیں تاکہ مسلم نوجوان قرآن سننے اور پڑھنے سے دور رہیں اور یہ سلسلہ گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے موجودہ حکومت جو پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کی دعویدار ہے خدا کے لئے اپنے ملک پاکستان میں تو ماہ صیام میں رات کے اوقات میں فلڈ لائٹس کرکٹ میچز پر پابندی عائد کرے کیونکہ عین اس وقت جب نماز تراویح میں قرآن کی آواز بلند ہو رہی ہوتی ہے انہی اوقات میںمساجد کے قریبی گرائونڈز میں کرکٹ میچز ہورہے ہوتے ہیں جن میں لائوڈ سپیکرز پر رننگ کمنٹری کیساتھ فحش ریکارڈنگ ہو رہی ہوتی ہے ظلم کی انتہا ہے کہ مساجد میں اونچی آواز میں سپیکرز چلانے پر تو مقدمات درج ہو جاتے ہیں مگرعوام کا سکون غارت کرنے کرکٹرز میںانتظامیہ کے افسران انعامات تقسیم کرتے نظر آتے ہیں۔ پچھلے کئی سالوں سے ماہ مقدس میں بھی ایسے خواتین وحضرات مذہبی پروگرامزمیں براجمان نظر آتے ہیں جن کا اسلامی تعلیمات سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ قرآنی تعلیمات کے پروگرامز کو ان سیکولر عناصر کے حوالے کسی صورت نہ کیا جائے ۔ماہ مبارکہ میںکیبل پربے حیائی اور فحاشی پر مبنی کمرشل ا شتہارات اور لاٹری ایسے

انعامی دیگر مخر ب اخلاق پروگرام دکھا نے پر پابندی عائد کی جائے حکومت ٹی وی چینلز مالکان کو سختی سے پابند کرے کہ وہ دینی و مذہبی پروگرام شروع کرتے وقت شوبز اور فلم و ٹی وی سے منسلک مرد و خواتین اداکاروں اور فنکاروں کے ذریعے اسلامی تعلیمات کی غلط تشریح کرنے سے احتراز کریں اور صرف معروف ومسلمہ مذہبی سکالرز کے پرو گرام جو خا لصاً قرآنی تعلیمات پر مبنی ہوں وہی دکھائیں۔ سارا سال یہ روشن خیال سیکولر حضر ات اپنی من مرضی کے مخرب اخلاق پروگرامز دکھا کر اسلامی تعلیمات کا مذااق اڑاتے ۔ہیں اسلامی تعلیمات سے نا بلد چینلز پر بیٹھے ارسطو خدا کا خوف کریں اس ایک مقدس مہینے میں تو خلاف اسلام پروگرامز سے اجتناب کریں تا کہ روزہ دار ماہ رمضان کی برکتوں سے فیضیاب ہو سکیں۔اپنے آپ کو مسلمان کہلانے والے اس ماہ مبارک کے تقد س کا خیال رکھیں اور خلاف اسلام گھٹیا غیر اخلاقی گفتگو سے پرہیز کریں ۔اللہ تعالیٰ نے اس ماہ مقدس میں شیطان کو زنجیروں میں جکڑ رکھنے کی نوید سنائی ہے مگر اس کے شتونگڑے کھلے عام معاشرے میں بے حیائی پھیلانے اور لوٹ مار کرنے میںمصروف ہو جاتے ہیں۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس دور کے مسلمان نے قرآن مجید کو غلاف میں لپٹ کر اپنے گھروں میں سجا رکھا ہے پڑھنے ،سمجھنے اور عمل کرنے کی زحمت تک گوارہ نہیںکرتے ریاست مدینہ بنانے کی حکومت سے توقعات ہیں کہ وہ اس ماہ مبارکہ میں رمضان آرڈیننس پر سختی سے عمل کروائے گی اللہ تعالیٰ حکمرانوں کو ایسا کرنے کی توفیق عطا فرمائے عوامی مسائل حل کرنے کے بلند بانگ دعوے کرتی ہے مگر وہ عوا م کے چھوٹے چھوٹے مسائل کو بھی حل کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *