خ و ن بنانے کی فیکٹری یہ پھل کھانے سے ساری زندگی خ و ن کی کمی نہیں ہوگی

خ و ن کی کمی ایسی بیماری ہے جس کو بیماری نہیں سمجھا جاتا ہے یہ ایک مستقل بیماری ہے جس کو انیمیا کہا جاتا ہے یہ ایک بیماری کئی بیماریوں کیوجہ بنتی ہے ۔ یہ خواتین میں زیادہ پائی جاتی ہے ۔ اس بیماری کی وجوہات کیا ہیں ایسے کونسے پھل ہیں جن سے خ و ن کی کمی کا علاج ممکن ہے ۔ خ و ن کی کمی جسے

انیمیا بھی کہا جاتا ہے یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں خ و ن کے سرخ خلیے بننا کم ہوجاتے ہیں ۔ خ و ن کے سرخ خلیوں میں خاص قسم کا مادہ ہیموگلوبن ہوتا ہے جو جسم کے مختلف حصوں میں آکسیجن کی ترسیل کا کام کرتا ہے یہ مادہ آئرن اور پروٹین سے مل کر بنتا ہے ۔ خ و ن میں ہیموگلوبن کی کمی ہی دراصل انیمیا یا خ و ن کی کمی کہلاتی ہے ۔ خ و ن کے سرخ ذرات کی زندگی کا دورانیہ 120دن ہے اگر کسی فرد میں کمی پائی جائے تو اس کو کئی طرح کے مسائل درپیش ہوسکتے ہیں۔ خ و ن کی کمی کیوجہ انسانی صحت کو کئی قسم کے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں یہ مہلک بھی ثابت ہوسکتے ہیں اسی لیے ضروری خ و ن کی کمی کو دور کرنے کیلئے کچھ تدابیر کی جائے ۔ کسی قسم کی بڑی پریشانی سے بچا جاسکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ہر تیسرا شخص خ و ن کی کمی کا ش کار ہے ۔ ماہرین کے مطابق سبز رنگ کے پھل اور سبز رنگ کی جتنی بھی سبزیاں ہیں وہ خ و ن پیدا کرنے والی ہیں خ و ن پیدا کرنے میں مفید ہیں ۔اگر آپ کے جسم میں خ و ن

کی کمی ہے تو گھر مین موجود ٹماٹروں کا استعمال کر کے خ و ن کی کمی کو روکا جا سکتا ہے۔ٹماٹر آئرن سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ جسم کو وٹامن سی بھی فراہم کرتے ہیں جو کہ آئرن کے جسم میں جذب ہونے کے عمل کو بہتر بناتا ہے۔کھجور کھانا نہ صرف سنت ہے بلکہ اس کے بیش بہا فوائد بھی ہیں ۔کھجور بے وقت کھانے کی لت پر قابو پانے میں مدد دینے والا موثر ذریعہ ہے جبکہ یہ آئرن کی سطح بھی بڑھاتی ہے۔ اس کے حوالے سے بھی ذیابیطس کے مریضوں کو احتیاط کی ضرورت ہے۔ انار بھی ہیموگلوبن کی سطح بڑھانے میں مددگار پھل ہے جس کی وجہ اس میں وٹامن سی کی موجودگی ہے جو کہ آئرن کی موجودگی کو بڑھاتی ہےاور خ و ن کی کمی کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔خ و ن کی کمی دور کرنے میں کلیجی اہم کردار ادا کر تی ہے ۔کلیجی فائبر، پروٹین، منرلز، وٹامنز اور آئرن سے بھرپور ہوتی ہے، اس کی معتدل مقدار میں استعمال خ و ن کی کمی کو چند دنوں میں پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔ان غذاؤں کے علاوہ پھلوں اورسبز سبزیوں کا بھی زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہئے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.