حضرت علی ؓ کا فرمان اکثر روزے داروں کو روزے کے بدلے میں بھوک پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا

اکثر روزے داروں کو روزے کے بدلے میں سوائے بھوک اور پیاس کی تکلیف کے کچھ حاصل نہیں ہوتا ایک بات یاد رکھیے کہ روز ہ فجر سے مغرب تک بھوک ہڑتال کا نا م نہیں ہے ۔ بلکہ یہ احکام خداوندی کی اس پیروی کا نام ہے جس کے بدلے میں وہ ہمیں بے شمار دنیاوی بیماریوں

اور مصیبتوں سے بچائے گا اور لاتعداد اُخروی انعامات سے نوازے گا اس لیے روزہ صرف پیٹ کا ہی نہیں ہوتا بلکہ آنکھ ، ناک ، کان غرض سر کے بالوں سے لیکر پاؤں کے ناخنوں تک ہر ایک اعضاء وجوارح کا بھی ہوتا ہے ۔ روزہ دار چونکہ اپنے خالق و مالک کے حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے دن بھر کھانے پینے اورممنوعہ احکامات سے ممکن حد تک بچنے کی کوشش کرتا ہے، اس لئے افطار کے وقت اس کے لئے بہت زیادہ خوشی کا مقام ہوتا ہے۔ ایک تو افطار کرتے ہوئے بھوک پیاس کی حالت میں اللہ کی نعمتوں سے فیض یاب ہوتا ہے تو اسے ایک عجیب سی مسرت اور اطمینان کا احساس ہوتا ہے اور دوسرے وہ اس امید پر خوش ہوتا ہے کہ آخرت میں وہ اپنے رب کا دیدار کرے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، ایک خوشی اس کے افطار کے وقت اور ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔بخاری اور مسلم میں ایک اور حدیث پاک میں روزہ اور روزہ دار کی فضیلت یوں بیان فرمائی گئی ہے: حضرت سہل بن سعد ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت کے آٹھ دروازے ہیں ان میں سے ایک کا نام ریان ہے اور اس میں سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے۔ (متفق علیہ) ریان کا معنی ہے سیرابی چونکہ روزہ دار دنیا میں اللہ کے لئے بھوک اور پیاس

برداشت کرتے ہیں، اس لئے انہیں بڑے اعزاز و احترام کے ساتھ اس سیرابی کے دروازے سے گزارا جائے گا اور وہاں سے گزرتے ہوئے انہیں ایسا مشروب پلایا جائے گا کہ پھر کبھی پیاس محسوس نہیں ہوگی۔ (عون الباری: 766/2) روزہ دار کے لئے اللہ پاک نے سحری و افطاری کے اوقات مقرر کئے ہیں۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سحری کھایا کرو کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہوتی ہے۔ (رواہ البخاری: 1923) دوسری روایت میں ہے کہ سحری ضرور کی جائے خواہ پانی کا گھونٹ پی کر یا کھجور کے چند دانے کھا کر ہی کیوں نہ ہو اس سے روزہ رکھنے میں قوت پیدا ہوتی ہے۔ (عون الباری:792/2) رمضان المبارک کی فضیلت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ خلوص نیت اور تقویٰ کے حصول کے لئے رکھے گئے روزے انسان کو آخرت میں جہنم کی آگ سے بچاتے ہیں اور عذاب قب.ر سے بچانے میں بھی انسان کے کام آئیں گے۔ رمضان المبارک میں جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے۔متفق علیہ حدیث ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین قید کردیئے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنوں میں رمضان کی اہمیت اورروزے کی افادیت سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *