تئیس چوبیس اور پچیس شعبان کے دن یہ چھوٹی سی آیات مبارک پڑھیں ہر دعا قبول ہوگی

حضرت اسامہ بن زیدؓ سے مروی ہے: رسول اﷲ ؐ کبھی ایسے مسلسل روزہ رکھتے کہ ہم سمجھتے اب آپ افطار نہیں فرمائیں گے اور کبھی یوں مسلسل بغیر روزہ کے رہتے کہ ہم گمان کرتے اب آپؐ روزہ نہیں رکھیں گے مگر ہفتہ کے دو دن، اگر تو وہ ایام صیام میں آ جاتے تو فبہا ورنہ آپ ان دو دنوں کا روزہ رکھتے تھے اور آپ

کسی اور مہینہ میں اتنے روزے نہ رکھتے تھے کہ جتنے شعبان میں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اﷲؐ ! آپؐ کبھی اس طرح روزہ رکھتے ہیں، لگتا ہے کہ اب افطار نہیں کریں گے اور کبھی یوں مسلسل بغیر روزہ کے رہتے ہیں کہ لگتا ہے اب روزہ نہیں رکھیں گے سوائے دو دنوں کے، اگر تو یہ آپ کے ایام صیام میں آ جائیں تو ٹھیک ورنہ آپ ان دو دنوں کا روزہ رکھتے ہیں، فرمایا:کون سے دو دن؟ اسامہ نے عرض کیا: پیر اور جمعرات کا دن، فرمایا: یہ دو دن وہ ہیں جن میں اعمال رب العالمین کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں اور میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال اس طرح پیش ہوں کہ میں روزہ دار ہوں۔ اسامہ بن زید نے عرض کیا! میں نے شعبان سے زیادہ کسی اور مہینہ میں آپ کو روزہ رکھتے نہیں دیکھا۔ تو آپ ؐ نے فرمایا: یہ رجب اور رمضان کے درمیان وہ مہینہ ہے جس کی اہمیت سے لوگ غافل رہتے ہیں اور یہی مہینہ ہے جس میں اعمال ربّ العالمین عزّوجل کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور میں یہ پسند کرتا ہوں کے میرے اعمال اس حال میں اٹھائے جائیں کہ میں روزہ سے ہوں۔میں نے رسول اﷲﷺ کو نصف شعبان کی رات دیکھا، آپ نے قیام کیا اور 14 رکعات ادا کیں، پھر بعد فراغت بیٹھ گئے اور پھر 14 بار سورۃ الفاتحہ پڑھی اور 14

بار النّاس اور ایک بار آیۃ الکرسی پڑھی اور لقد جاء کم رسول کی آیت پڑھی تو جب اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے اس عمل کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: جو تم نے دیکھا ہے جو شخص ایسا کرے گا تو اس کے لئے 20 مقبول حج اور 20 سال کے مقبول روزوں کا ثواب ہے۔ پس اگر اس نے اس دن صبح روزہ کی حالت میں کی تو اس کے لئے 2 سال گزشتہ اور 2 سال آئندہ روزے کا ثواب ہے۔آج کا وظیفہ تئیس چوبیس اور پچیس شعبان کے حوالے سے خاص ہے ۔وظیفہ کو کرنے کے دو طریقے ہیں ایک یہ کہ آیت کریمہ کو سوالاکھ مرتبہ بہت سے لوگ مل بیٹھ کرپڑھیں ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ایک شخص تنہائی میں بیٹھ کر اس کو 1100مرتبہ بعد نماز عشاء باوضو ہوکر قبلہ رُخ ہوکر اس وظیفہ کو کرے پانی کا ایک پیالہ بھر کر پاس رکھ لے یا کسی گلاس میں پانی بھر کر اپنے پاس رکھ لے اس آیت مبارکہ کو پڑھ لیں تب اس پانی میں پھونک ماردینی ہے اور وہ پانی خود پی لیں جس مقصد یا شخص کیلئے کررہے ہیں اس کو پانی پلا دینا ہے اگر وہ نہیں پی سکتا ہے تو آپ خود اس پانی کو پی سکتے ہیں ۔وہ آیت یہ ہے لاالہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین یہ حضرت یونس ؑ کی ہے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ اس کی شان کے بار ے میں فرماتاہے :ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اس کو غم سے نجات دی اور اسی طرح ایمان والوں کو نجات دیا کرتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *