ایک بار حضورﷺ مومنین کو صدے کی تلقین فرما رہے تھے جس کے پاس ایک بڑی خوبصورت اونٹنی تھی

ایک بار حضورﷺ مومنین کو صدقے کی تلقین فرمارہے تھے کہ وہاں ایک اعرابی آپہنچا جس کے پاس ایک بڑی خوبصورت اونٹنی تھی بڑی خوش رفتار اور خوش خرام ۔ اس اعرابی نے اسے ایک جگہ کھڑا کردیا سحری کے وقت حضوراکرمﷺ گھر سے نکلے تو یہ اونٹنی فصیح وبلیغ انداز میں قرآن کے کلمات پڑھ رہی تھی

حضورﷺ نے یہ کلمات سنتے ہی اس کی طرف توجہ فرمائی اور اسکا حال پوچھا تو وہ کہنے لگی یا رسول اللہﷺ میں اس اعرابی کے پاس تھی وہ مجھے ایک سنسان جنگل میں باندھ دیا کرتا تھا رات کے وقت جنگل کے جانور میرے ارد گرد جمع ہوجاتے او رکہتے تھے کہ اسے نہ چھیڑنا یہ حضورﷺ کی سواری ہے میں اس دن سے آپﷺ کی ہجروفراق میں تھی آج اللہ نے احسان فرمایا کہ آپﷺ تک پہنچی ہوں ۔ آپﷺ کی یہ بات سن کر بہت خوش ہوئے اور اسکی طرف زیادہ التفات فرمانے لگے اور اسکا نام اسبا رکھا ۔ ایک دن اسبا نے کہا یا رسول اللہ ﷺ مجھے آپﷺ سے ایک درخواست کرنی ہے آپﷺ نے پوچھا کیا عرض کیا آپ اللہ سے میری یہ باتیں منظور کرادیجئے کہ جنت میں بھی میں آپﷺ کی سواری رہوں دوسری بات یہ کہ مجھے آپﷺ کے وصال سے پہلے م و ت آجائے تاکہ میری پشت پر کوئی دوسرا

سواری نہ کرسکے آپﷺ نے اسے یقین دلایا کہ تمہاری پشت پر کوئی سواری نہ کرے گا جب حضوراکرمﷺ کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپﷺ نے حضرت فاطمہ الزہرہ ؓ کو بلا کر وصیت کی کہ اسبا پر میرے بعد کوئی سواری نہ کریں کیونکہ میں نے اس سے عہد کیا ہے بیٹی تم خود اس کی دیکھ بھال کرنا آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور آپﷺ کے فراق میں گم سم رہنے لگی ایک رات حضرت فاطمہ الزہرہ ؓ اونٹنی کے نزدیک سےگزری تو وہ آپ ؓ کو دیکھ کر یوں گویا ہوئی اے رسول اللہﷺ کی صاحبزادی جب سے میرے رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوا ہے میں نے گھاس کھانا اور پانی پینا چھوڑ دیا ہے خدا کرے مجھے جلد م و ت آجائے کیونکہ مجھے اس زندگی سے حضورﷺ کی غلامی زیادہ پسند ہے حضرت فاطمہ الزہرہ ؓ اس اونٹنی کی باتیں سن کر بہت مغموم ہوئی اور رونے لگی اور پیار سے اپنے ہاتھ اونٹنی کے چہرے پر ملنے لگی ۔ کہتے ہیں کہ اسی حالت میں اس اونٹنی نے جان دیدی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *