ذکر کرنے کے بہت فائدے ہیں لیکن ہم جانتے نہیں ایسا وظیفہ جسے پڑھنے سے ہر کوئی آپ پر مہربان ہوجائے

ذکر کی ایک حد ہے عنداللہ لا الہ الا اللہ اللہ تعالیٰ کی ذات صفات اسماء کے جتنے کلمات ہیں وہ اپنی جگہ شان و شوکت رکھتے ہیں کوئی شخص یالطیف یالطیف کرتارہے گا خود بخود طبیعت میں مہربانی آئے گی جو اس کے سامنے آئے گا وہ بھی لطافت اور مہربانی پر مجبور ہوگا جو سبحان اللہ کثرت سے کہے گا وہ عیوب سے قبائح

سے رذائل سے ناپسندیدگیوں سے دور رہے گا محدثین کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہی ہے کہ جو لوگو اس کے پاس رہیں گے وہ بھی بے عیب ہوں گے کیونکہ اس پر کلمہ سبحان اللہ کا اثر ہے اور جو شخص الحمدللہ الحمدللہ کا ورد کرے گا اس میں خوبیاں کمالات عنایات محاسن مکارم معارف تمام کے تمام تر توانائیاں حسن و جمال کی برسات رہے گی اور کوئی شخص بھی اس سے تعلق رکھے گا تو وہ خوبیاں اختیار کرے گا اس میں کمالات آجائیں گے یہ ذکر تسبیح صرف ایک زبان پر چڑھانے کا عمل نہیں یہ بَڑ مارنے کا عمل نہیں ہے یہ مقاصد کی ادائیگی ہے جیسے پورے اسلام کا ایک عنوان ہے لا الہ الا اللہ پورے دین کا ایک عنوان ہے قرآن اور سنت اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ہر نام کا ایک اثر ہے ذاکرین شاغلین اس کی خوبیاں اور کمالات کے درپے ہوتے ہیں خاص قسم کی مشقیں ہوتی ہیں وہ کرتے ہیں اوقات صرف کرتے ہیں فاقے کرتے ہیں روزے رکھتے ہیں جنگلوں میں جاتے ہیں شب بیدار رہتے ہیں ذکر الٰہی جب ایک حد تک پہنچے تو پھر جو منہ سے نکالتا ہے حق تعالیٰ پورا کرتا ہے درمیان میں حجابات ہت جاتے ہیں یہاں تک بڑھ گئے وارفتگی شوق کے نظارے اور حجابات نظر سے پھوٹ نکلا حسن جاناناں پھر اس کے اور معبود کے درمیان اس کے اور مذکور کے درمیان حجابات ختم ہوجائیں گے بنی اسرائیل میں ایک ذاکر تھا

بلعم بن بعورا وہ اس مقام ذکر تک پہنچ چکا تھا اس سے غلطی ہوگئی اور دنیا کے لالچ میں آیا اور اس نے موسیٰ کو اور ان کے فوجیوں کو بد دعا دی اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوگیا اور اس سے وہ مقام و مرتبہ چھین لیا جیسے سرکا رکوئی فیصلہ کرتے ہے کہ آج سے یہ فلاں شہر کا آئی جی نہیں ہے آج سے فلاں منصب اس کا ہم نے ختم کردیا ہے اسی طرح حق تعالیٰ کی طرف سے بھی پھٹکارا آتا ہے ۔ اپنے اعمال پر توجہ دیجئے حقوق العباد لازمی پورے کیجئے اور حقوق اللہ کا بھی خیال رکھئے کیونکہ اللہ کبھی حقوق کے تلف کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا قیامت کے دن اللہ اپنے حقوق تو معاف فرمادے گامگر حقوق العباد یعنی اللہ کی مخلوق کے حقوق جو آپ نے ادا نہیں کئے ہوں گے ان کو معاف نہیں فرمائے گا ان پر آپ کو سزاد دی جائے گی اور آپ کی نیکیوں سے ان حقوق کو ادا کیا جائے گا ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.