یَا قَھَّارُ کو رات سوتے وقت میں 4 بار پڑھ لیں پھر جو معجزہ آپ کے ساتھ ہوگا

اقَھَّارُ اے قہر والے، اس لفظ کی گہرائی کو آپ اس طرح سے سمجھ سکتے ہیں کہ اللہ سب پر غالب ہے بلکہ غالب سے غالب تر ہے اور ہر ایک زبردست سے زبردست ہے ۔زبردستوں کو زیر رکھنے والا ہے چونکہ سورہ انعام میں ہے کہ وہ اپنے بندوں کے اوپر پورا پورا

غلبہ رکھنے والا ہے اللہ کا قہر بڑا شدید ہے اور یہ ناراضگی کی علامت ہے اللہ تعالیٰ جن لوگوں سے ناراض ہو ان پر اس نے قہر نازل کیا جس سے وہ آنے والی نسلوں کے لئے باعث عبرت بنے کیونکہ وہ ظالم اور سرکش تھے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان سے انتقام لیا اور انہیں ذلیل اور رسوا کیا یاد رکھو کہ آج بھی اگر کوئی اللہ اور اس کے رسول کا دشمن جب اس سے ٹکر لیتا ہے. تو وہ اس پر قہر نازل کر کے اپنی شان قہاریت کا اظہار کرتا ہے اور اسے نیست و نابود کردیتا ہے اسی لیئے اللہ کی شان قہاریت سے ہمیشہ اس کی پناہ مانگنی چاہئے محمد شاہ رنگیلے کا دور تھا ایک پنڈت اپنے علوم و کمالات میں ایسا ماہر تھا کہ محمد شاہ رنگیلا بادشاہ بھی اس کی ایسی قدر کرتاتھا کہ شاید ماں کی بھی کم کرتا ہو ہندو پنڈت جن کا نام پنڈت بھگو رام تھا ایک دفعہ سوال کر بیٹھا کہ مہاراج کوئی ایسی چیز بتائیں جو جنات اور جادو کا آخری ہتھیار ہو ننگی ت ل و ا ر ہو اور جب بھی اس کو پڑھا جائے تو جادو جنات ایسے ٹوٹے جیسے میرے ہاتھ سے جام پتھر کے فرش پر ٹوٹ کر چکنا چور ہوجاتا تھا پنڈت بھگورام اپنی چاپ میں سر تھا سراٹھایا اس کی

سرخ آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے تو پنڈت نے کہا آپ کو ایک چیز بتاتا ہوں کیونکہ آپ مسلمان ہیں تو آپ کو ایک ایسی اسلامی چیز دیتا ہوں جو یقینا آپ کو زندگی کے وہ کمالات دے جو آپ کو آپ کی نسلوں کو سدا اور صدیوں یا د رہیں محمد شاہ رنگیلا بادشاہ ایک دم چوکنا ہو کر بیٹھ گیا اپنے تاج کو اتار کر ایک طرف رکھ دیا اور کانوں کے قریب لے گیا تو پنڈت بھگورام بولا شہنشاہ اعظم آپ کے قرآن میں ایک لفظ ہے قَہّار یہ ایک ایسا لفظ ہے جس کو آپ یَاقَہَّارُ جب بھی آپ پڑھیں گے یہ شریف جادوگر بدکار جنات اور جادوگروں پر ایک ننگی ت ل و ا ر ثابت ہو گی آپ کے اوپر جادو کسی نے کردیا تو آپ اس کو توڑنے پر تیار ہیں کوئی جن آپ کے گھر در اور دولت کا دشمن ہے اور آپ چاہتے ہیں کہ اس جن سے چھٹکارا مل جائے تو ہر گز ہر گز پریشان نہ ہوں آپ فورا اس اسم یَاقہار کو اپنی زندگی کا ساتھی بنالیں پاک ناپاک ہر وقت اس کو وجد کی حالت میں پڑھیں یعنی ڈوب کر پڑھیں اور بے قرار ی بے چینی سے پڑھیں جب بھی پڑھیں گے آپ کو اس کا کمال ملے گا تھوڑے عرصے میں یا زیادہ عرصے میں لیکن کمال ضرور ملے گا محمد شاہ رنگیلے نے یہ واقعہ سب کو سنا دیا رنگیلے کے دور میں جنات پر اس اسم کی وجہ سے جو ق ہ ر برسا وہ شاید پھر زندگی میں کبھی کسی پر نہ برسا ہو۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آم

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *