شوگر کا علاج 3 دن میں ممکن ہے چائینہ سٹڈی کی دلچسپ تحقیق اور طریقہ علاج

میڈیکل سائنس کے علم سے انکار نہیں کیا جا سکتا مگر میڈیکل سائنس کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ جو چیز میڈیکل سائنس کی سمجھ میں نہ آئے یہ اُس کے وجود سے انکار کر دیتی ہے اور اُس وقت تک مُنکر رہتی ہے جب تک یہ اپنی لیبارٹری میں خُود اُس کی حقیقت تک نہیں پہنچ جاتی اور حقیقت تک پہنچتے ہی یہ اپنا پُرانا ایمان

بدل دیتی ہے۔ذیابطیس جسم میں گلوکوز میٹابولیزم میں خرابی کے باعث پیدا ہوتی ہے اور میڈیکل سائنس کے پاس اب تک اس کا کوئی مستقل علاج موجود نہیں اور جو ادویات میڈیکل سائنس اس مرض کے علاج کے لیے دیتی ہے وہ اس کو عارضی طور پر ٹھیک رکھتی ہیں اور کوئی مستقل حل پیش نہیں کرتیں۔ گلوکوز میٹر، ٹیسٹ سٹرپس، گولیاں، ٹیکے اور نجانے کتنا کُچھ بنانے والی یہ کمپنیاں سالانہ اربوں ڈالر کماتی ہیں اور ایک دفعہ جو ذیابطیس کا شکار ہو جاتا ہے وہ پھر ساری زندگی ان کمپنیوں کی ادویات خریدنے پر مجبور رہتا ہے اور جس دن انسان کے ہاتھ شوگر کا کوئی مستقل علاج آئے گا تب ایک ہی دن میں ان کمپنیوں کا دیوالیہ نکل جائے گا۔1997 سے پہلے نہار مُنہ نارمل شوگر لیول 140 سے کم تھا پھر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ماہرین کو دوبارہ اس شوگر لیول پر غور کرنے کا کہا، ماہرین نے سوچ وچار کے بعد نہار مُنہ نارمل شوگر لیول کو 140 کی بجائے 70 سے 100 کے درمیان کر دیا جس سے ایک ہی رات میں پُوری دُنیا میں شُوگر کے نئے مریضوں میں 14 فیصد اضافہ ہو گیا اور ادویات بنانے والی کمپنیوں کی پانچوں اُنگلیاں گھی میں اور بیچارے نئے شُوگر کے مریضوں کا سر کڑاہی میں چلا گیا۔ آجکل ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن پھر اس بات پر غور کر رہی ہے کہ نہار مُنہ نارمل شُوگر لیول کو 100 کی بجائے مزید نیچے لایا جائے اور جس دن ڈبلیو ایچ او نے یہ فیصلہ کر لیا تو عین ممکن

ہے کہ دُنیا کی آدھی آبادی ذیابطیس کی مریض بن جائے گی اور ذیابطیس کنٹرول کرنے والی ادویات کریانہ سٹورز پر بھی بکنی شروع ہو جائیں گی۔چائینہ سٹڈی غذائی نیوٹریشن پر ہونے والی ایک باکمال تحقیق ہے اور یہ کتاب امریکہ میں 2006 میں پبلیش ہُوئی اور اس نے نیوٹریشن کے حوالے سے فروخت ہونے والی تمام کتابوں کا ریکارڈ توڑ دیا، اس کتاب میں جانوروں سے حاصل ہونے والی نیوٹریشن جیسے گوشت، دُودھ، دہی وغیرہ اور دائمی بیماریاں جیسے کینسر، دل کی بیماریاں، ذیابطیس، کولیسٹرال، ہائی بلڈ پریشر کے درمیان تعلق کو بہت تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ ذیابطیس کے حوالے سے ماہرین نے دُنیا کے کُچھ ممالک کا ڈیٹا سٹڈی کیا تو اُنہیں پتہ چلا کہ دُنیا کے جن ممالک میں چکنائی سے بھرپُور کھانے کھائے جاتے ہیں وہاں دُوسرے ممالک کی نسبت ذیابطیس کا مرض کہیں زیادہ ہے خاص طور پر امریکہ میں یہ 16 فیصد سے بھی زیادہ ہے اور انڈیا میں یہ 8 فیصد ہے۔بھارت کے ڈاکٹر رائے چوہدری نے چائینہ سٹڈی کی تحقیق کے نتائج کی روشنی میں اپنے کلینک پر شوگر کے علاج کے لیے چائینہ سٹڈی کے طریقہ کار کو متعارف کروایا اور اب تک وہ ذیابطیس کے 20 ہزار سے زائد مریضوں کو اس مرض سے نجات دلوا چُکے ہیں اور یہ مریض بغیر انسولین اور بغیر کوئی شوگر کی گولی کھائے صحت مند زندگی گُزار رہے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *