سب سے ادنیٰ جنتی کا مقام

اﷲ رب العزت کی جانب سے جو نعمتیں عطا کی جائیں گی ‘ان کو شمار نہیں کیا جاسکتا ۔ متعدد احادیث مبارکہ میں رب تعالیٰ کی نعمتوں ا ور اس کی جانب سے ملنے والے انعامات کا تذکرہ ملتا ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو کس قدر جنت کی نعمتوں سے سرفرا زفرمائے گا۔ احادیث مبارکہ میں ایک ادنیٰ

جنتی کے لیے جن انعامات کا ذکر کیا گیا ہے ، ان سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب ایک ادنیٰ مومن کا مقام یہ ہو گا تو اعلیٰ جنتی کا مقام کیامقام کیا ہوگا۔ اس کا مقام تصور سے بھی بالا تر ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے ادنیٰ جنتی کا مقام بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:ادنیٰ جنتی کا مقام وہ ہو گا کہ اس کی سلطنت ہزار سال کی مسافت تک وسیع ہو گی اور اپنی سلطنت میں موجود کسی دور کی شے کو بھی ایسے ہی دیکھے گا جیسے اپنے قریب کی شے کو دیکھے گا جیسے وہ اپنی بیوی اور خادموں کو دیکھ رہا ہو۔ (مسند احمد: ۴۶۲۳)اس کے علاوہ آقا کریم ﷺ نے ادنیٰ جنتی کی خدمت کرنے والے خدام اور بیویوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:سب سے ادنیٰ جنتی کا مقام یہ ہے کہ اس کے اسّی ہزارخدّام ہوں گے اور۷۲ بیویاں ہو ں گی اور اس کے لیے موتیوں ، زبرجد اور یاقوت کا اتنا طویل قبہ کھڑا کیا جائے گا جتنا جَابِیَہ اورصَنْعَاء کا درمیانی فاصلہ ہے۔ (ترمذی: ۲۵۶۲)ایک اور روایت میں پیارے آقا حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ تمام جنتیوں میں سب سے کم درجہ والے جنّتی کی

خدمت دس ہزار خدّام کریں گے اور ہر خادم کے ہاتھ میں دو پلیٹیں ہوں گی، ایک سونے کی اور دوسری چاندی کی، ہر ایک میں دوسرے سے مختلف رنگ کا کھانا ہو گا، وہ دوسری سے بھی ایسے ہی کھائے گا جیسے پہلی پلیٹ سے کھائے گا اور دوسری سے بھی ویسی ہی خوشبو اور لذت پائے گا جیسی پہلی سے پائے گا، پھر یہ سب ایک ڈکار ہو گا جیسا کہ عمدہ کستوری کی خوشبو (یعنی یہ سب کھانا خوشبودار پسینے اور ڈکار کی صورت میں ہضم ہوجائے گا)، وہ نہ تو پیشاب کریں گے نہ پاخانہ کریں گے اور نہ ہی ناک صاف کریں گے اور بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کے سامنے تخت پر بیٹھے ہوں گے۔ (الزھد والرقائق: ۱۵۳۰) ایک اور طویل حدیث میں آقا کریم ﷺ نے ادنیٰ جنتی کے پل صراط سے ہوتے ہوئے جنت میں داخل ہونے سے لے کر اس کو ملنے والی نعمتوں تک کا تفصیلی تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:لوگ پل صراط پرسے اپنے نورکے مطابق گزریں گے،ان میں سے بعض پلک جھپکنے کی دیرمیں گزریں گے توبعض بجلی کی طرح،بعض بادلوں کی طرح گزریں گے تو بعض ستارے ٹوٹنے کی طرح، بعض ہوا کی طرح گزریں گے تو بعض گھوڑے کے دوڑنے کی طرح، بعض کجاوہ باندھنے کی طرح گزریں گے یہاں تک کہ

جسے اُس کے قدموں کے ظاہر پر نور عطا کیا جائے گا وہ چہرے، ہاتھوں اور پاؤں کے بل چلے گا، ایک ہاتھ کھینچے گا تو دوسرا اٹک جائے گا، ایک پاؤں کھینچے گا تو دوسرا پھنس جائے گا، اس کے پہلوؤں کو آگ پہنچ رہی ہو گی۔ وہ چھٹکارا پانے تک اسی کیفیت میں رہے گا، پھر جب آزاد ہو جائے گا تو کھڑا ہو جائے گا اور کہے گا: تمام تعریفیں اﷲ عزوجل کے لیے ہیں جس نے مجھے وہ کچھ عطا کیا جو کسی کوعطا نہیں کیا کہ مجھے عذاب کے دیکھنے کے بعد اس سے نجات عطا فرمائی۔ پھر وہ جنت کے دروازے پر ایک تالاب کی طرف جائے گا اور ا س میں غسل کرے گا اوراسے اہلِ جنت اور ان کے رنگوں کی خوشبو آئے گی تو وہ دروازے کے سوراخوں سے جنت کی نعمتیں ملاحظہ کر کے عرض کرے گا:اے میرے پروردگار ! مجھے جنت میں داخل فرما دے۔ تو اﷲ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا:کیا تو جنت کا سوال کرتا ہے حالانکہ میں نے تجھے دوزخ سے نجات عطا فرمائی ہے؟ تو وہ کہے گا: میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل کردے یہاں تک کہ میں اس کی ہلکی سی آواز بھی نہ سن سکوں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *