رزق دولت ہرچیز قدموں میں ہوگی!

جمعۃ المبارک کا خاص وظیفہ تحریر کیا جارہا ہے ۔حضرت آدم علیہ السلام کا وظیفہ ہے جو انہوں نے دنیا میں آتے ہی جو کلمات پڑھے جس کو ایک حدیث نبویﷺ سے روایت کیا گیا ہے انشاء اللہ مکمل روایت ذیل میں آئے گی۔ اور ایک خاص واقعہ شیئر کیا جائے گا جس کا تعلق حضرت آدم ؑ سے ہے اور جو وظیفہ تحریر کیا جارہا ہے

وہ بہت ہی مجرب اور اکسیر ہے ۔کوئی بھی مسائل جو آپ کو درپیش ہو ں وہ اس وظیفہ کی بدولت حل ہو جائے گا۔وظیفہ ایک حدیث سے ثابت شدہ ہے جس کو حضرت سلیمان بن بریدہ ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ حضرت آدم ؑ نے زمین پر آنے کے بعد بیت اللہ کا طواف کیا پھر دروازے کے سامنے دورکعت نماز پڑھی پھر ملتزم میں تشریف لائے اور یہ دعا پڑھی جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ کعبہ سب سے پہلے تعمیر کیا گیا تھا حضرت جبرائیل ؑ نے سب سے پہلے اس کی تعمیر کی تھی اس کو دوسری دفعہ طوفان نوح کے بعد حضرت ابراہیمؑ نے تعمیر کیا حضرت اسماعیلؑ کے ساتھ مل کر تو اس لئے حضرت آدم ؑ نے زمین پر آتے ہی بیت اللہ کا طواف کیا۔ پھر دروازے کے سامنے دورکعت نماز پڑھی وہ دعا یہ تھی : اللهم انک تعلم سری وعلانیتی فأقبل معذرتی تعلم مافی نفسی فأغفر لی ذنوبی اللهم انی اسألک إیمانا یباشر قلبی ویقینآ صادقا حتی أعلم انه لن یصیبنی الا ماکتبته علی والرضا بما قسمته لی یا ذا الجلال والإکرام اس دعا کو دعائے آدم ؑ بھی کہا جاتا ہے جب حضرت آدم ؑ نے یہ کلمات پڑھے تو حضرت آدم ؑ پر یہ وحی نازل ہوئی کہ تم نے ایسی دعا پڑھی کہ جو قبول کر لی گئی ہے تمہاری اولاد میں سے جو بھی یہ دعا کرے گا اس کے غم اور فکر کو دور کر دوں گا اس کی روزی کو کافی کر دوں گا اس کی طرف اسباب رزق کو متوجہ کر دوں اس کی طرف دنیا ذلیل ہوکر

آئے گی اگرچہ وہ دنیا کو نا بھی چاہے تو بھی اللہ تعالیٰ دنیا کو اس کے سامنے مسخر کر دے گا سب سے پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ جو بھی دعا کرے گا اس کی وہ دعا قبول ہوگی اور اللہ تعالیٰ نے یہ خوشخبری دی ہے تمام اولاد کے لئے کہ جو بھی اس کے ذریعہ سے دعا مانگے گا تواس کو یہ تمام ترفوائد حاصل ہوں گے۔غم دور ہوجائے گا ۔روزی اللہ تعالیٰ کافی کر دیں گے۔فقر ختم ہوجائے گا ۔مشکلات حل ہوجائیں گی۔2رکعت نفل پڑھئیے صلوٰۃ الحاجت کے طور پر اور پھر مندرجہ بالا دعا کو پڑھ کر گڑگڑا کر عاجزی و انکساری سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی ہے ۔انشاء اللہ اللہ تعالیٰ آپ کو ضرور عطافرمائیں گے اور یقین کے ساتھ مانگنے سے اللہ پاک فورا سے عطافرمادیتے ہیں۔اور اب حضرت داؤد علیہ السلام کا ایمان افروز واقعہ ملاحظہ ہو۔حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا:تیرا ناس ہو اے خاتون!تو کیا بات کر رہی ہے۔ رب تعالیٰ تو سراسر عدل انصاف ہے ،وہ ذرابرابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔پھر اس سے پوچھا کہ تم ایسا کیوں کہہ رہی ہو ،تمہاراقصہ کیا ہے۔اس عورت نے اپنا قصہ بیان کرنا شروع کیا:اے خدا کے نبی !میں ایک عورت ہوں ،میری تین بچیا ں ہیں ،جن کی پرورش میں اپنے ہاتھ سے سوت کاٹ کاٹ کے کرتی ہوں۔میں دن بھر

اور بعض اوقات راتوں کو جاگ کر سوت کاٹتی ہوں۔گزشتہ روزمیں اپنا کاٹا ہواسوت ایک سرخ کپڑے میں باندھ کر اسے بیچنے کے لیے بازار جانا چاہتی تھی تاکہ اس کی آمدنی سے بچیوں کے کھانے پینے کا بندوبست کروں ،لیکن اچانک ایک پرندہ مجھ پر ٹوٹ پڑا اور سرخ کپڑے کا ٹکڑا جس میں مَیں نے سوت باندھ رکھا تھا،اسے گوشت کا ٹکڑاسمجھتے ہو ئے لے اڑا۔میں یو نہی حسرت ویاس سے ہاتھ ملتے رہ گئی۔ اب میرے پاس کچھ نہیں کی اپنی بچیوں کو کھانا ہی کھلا سکوں۔ابھی وہ خاتون حضرت داؤد علیہ السلام سے اپنی داستان بیان کر رہی تھی کہ اتنے میں آپؑ کے دروازے پر دستک ہوئی۔حضرت داؤد علیہ السلام نے آنے والے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ اجازت ملتے ہی دس تاجر یکے بعد دیگرے اندر داخل ہوئے ،جن میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں سو سو دینار تھے۔تاجر وں نے عرض کیا : خدا کے نبی ! ہمارے ان دیناروں کو ان مستحق تک پہنچادیں۔حضرت داؤد علیہ السلام نے پوچھا: ’’میرے پاس یہ مال حاضر کرنے کاسبب کیاہے؟‘‘تاجروں نے جواب دیا:’’خداکے نبی ! ہم سب ایک کشتی میں سوار تھے۔اتفاقاً ایک زور دار آندھی آئی ،کشتی میں ایک جانب سوراخ ہوگیااور پانی کشتی میں داخل ہونا شروع ہوگیا۔ موت ہ

میں سامنے نظر آرہی تھی۔ہم نے نذرمانی کہ اگر رب تعالیٰ ہمیں اس توفان سے نجات دیدے توہرزشخص سو ،سو دینار صدقہ کرے گا۔اب پانی کشتی میں تیزی سے داخل ہونے لگا۔ہمارے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی ،جس سے اس سوراخ کو بند کر سکیں۔ادھر ہم نے نذرمانی ،ادھر رب تعالیٰ نے ہماری مدد کا بندوبست کر دیا۔ ایک بہت بڑا پرندہ منڈلاتا ہواکشتی کے اوپر آگیا۔اس کے پنجے میں ایک سرخ رنگ کی پوٹلی تھی۔اس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوٹلی کشتی میں پھینک دی۔ہم نے لپک کر اس پوٹلی کو پکڑا ،اس میں کاٹا ہوا سوت تھا۔ہم نے فوراًاس سے کشتی کا سوراخ بند کیا اور اس میں داخل شدہ پانی کو ہاتھوں سے باہر پھینکا۔تھوڑی دیر بعد طوفان تھم گیا اور یوں ہم موت کے منہ سے واپس آئے ہیں۔اب یہ صدقے کی رقم آپ کے ہاتھوں میں ہے،آپ جسے چاہیں ،اسے دے دیں‘‘یہ قصہ سن کر حضرت داؤد علیہ السلام اس بیوہ عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:پروردگار تیرے لیے بحروبر میں تجارت کر رہا ہے اور تو ہے کہ اس ظالم گردان رہی ہے؟پھر آپؑ نے وہ دینار اس خاتون کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا:’’جاؤ انہیں اپنی بچیوں پر خرچ کرو‘‘۔شکریہ

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *