رب کعبہ کی قسم ! تقدیر کے لکھے مٹ سکتے ہیں

آج کا جو وظیفہ ہے یہ اللہ پاک کے دوبابرکت نا م ہیں۔ آج میں آپ کو اس وظیفے سے بتاؤں گا کہ ہمیں اس کو کیسے پڑھنا ہے۔ ہمیں اس سے کیسے بہتر سے بہتر فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ یاعزیز: سب سےزیادہ عزت والی ذات اللہ پاک کی ذات ہے۔اس لیے العزیز اللہ پا ک کی صفت ہے۔ بعض صوفیاء کا قول ہے ۔کہ عزیز سے مراد

وہ ذات ہے جس کا مقام اتنا اعلیٰ اور عرفا ہو۔ جس کا حصول ناممکن ہو۔ اور انسانوں کی سوچ سے بالاتر ہو۔ اس کا ادراک ممکن نہ ہو۔ نہ ذات وہ معدی آنکھوں سے دیکھی جا سکے۔ نہ ہاتھوں سے چھوئی جاسکے۔ اس لیے ایسی ذات کو عزیز کہاگیا ہے۔ ایک ذرے سے لے کر صحرا تک ، ایک قطرے سے سمندروں تک، ایک پتھر سے لے کر ہمالیہ پہاڑ تک، ایک پتے سے جنگل درخت تک ، زمینوں سے آسمان تک، مشرق سے مغرب تک ، شمال سے جنوب تک صرف ایک اللہ واحد لا شریک ہے اور صر ف اس کی حکومت ہے ۔اور وہ ہرچیز پرغالب ہے اورہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ صر ف اسی کا ہرچیز پر قبضہ ہے۔ یہ چلتی ہوئی ہوا نہ اپنی طاقت سے آئی ہے نہ اپنے ارادے سے تیز ہوئی ہے یہ درختوں کی گردش ، پتوں کی حرکت ، نہ اپنے ارادے سے ان کو وجود ملا ہے، نہ اپنی چاہت سے یہ تھمتی اور چلتی ہے وہ ہواؤں کو چلاتا ہے ۔ روتا کوئی نہیں ہے۔ وہ اگر روتا ہے تو چلاتا کوئی نہیں ہے۔ زمین پر اللہ کا قبضہ ، آسمانوں کو بسایا، آسمانوں پر اسی کا قبضہ، زمین کے درمیان میرے اللہ کا قبضہ ہے۔ زمین کی آخری تہہ تک میرے اللہ کا قبضہ ہے ۔ مشرق اس کے قبضے میں ہے اور مغرب بھی اس کے قبضے میں ہے۔ جب ہر چیز اس کے قبضہء قدرت میں ہے ۔صر ف اسی سے مانگیں گے ۔اسی سے مرادیں پوری کریں گے۔

ہمارے اللہ کی طاقت ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس کا وجود اس کی طاقت اور قدرت منہ بولتا ثبوت ہے۔ اللہ کی ذات وہ ہے جب ہم ماں کے پیٹ میں تھے اس نے ہماری نگرانی کی ۔ آپ کو چھوٹی سی مثال بیان کرتا ہوں۔ کہ اللہ نے ایک انسان کا دماغ بنایا۔ اگر اس دماغ نکال کر تاربناؤں ۔ تو یہاں سے لے کر چلو چاند کے اوپر چکر کاٹ کے آکے نیچے گھر دی جائے۔ اور چاند یہاں سے دو لاکھ چالیس ہزار کلومیٹر دور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دماغ کا تا ر ہمارے سر میں جا کے فٹ کردیا ہے۔ آج کے وظیفے میں “یا عزیزیااللہ” کو پڑھیں گے۔ اور دنیا کا جو بھی کام کریں گے جس کام کی بھی نیت کریں گے۔ انشاءاللہ ! اللہ کے حکم سے وہ ہوجائےگی۔ لیکن محنت آپ کو ضرور کرنی پڑے گی۔ جو بھی حاجت ہو اس کوذہن میں رکھ کرکر نا ہے۔ جس کو صبح وشام اور چلتے پھرتے بھی پڑھیں۔ اور اس کو بعد نماز تہجد اور بعدنماز عشاء لازمی پڑھیں۔ خوشبو کا استعمال لازمی کریں۔ اورا یک صاف ستھرے کمرے میں بیٹھ کر آپ کا لباس اور جگہ پا ک بھی ہو۔ اور ایک گلاس پانی ساتھ میں رکھ لینا ہے۔ اس عمل کو ایک دن میں گیارہ سو سے لے کر اکیس سو تک اور اکیس سو سے لے کر اکتالیس سو تک پڑھیں گے۔ جیسا ہی آپ یہ عمل کریں گے آپ کو دلی سکون بھی ملے گا۔ اور روحانی سکون بھی ملے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.