پرانی سے پرانی کڑل(کھچ پڑنے) کامکمل خاتمہ

نیند کی حالت میں میری پنڈلیوں میں کڑل پڑجاتے ہیں اس کا علاج کیا ہے ؟یہ جو کڑل پڑتے ہیں اس کا بہترین علاج ایک گلاس پانی لو اس میں پانچ انجیر بھگو کر رکھ دو اور اس نیت سے انجیر کو بھگوؤ کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انجیر کی قسم کھائی ہے ۔ اور

دیکھو جس چیز کی اللہ قسم کھائیں وہ کس قدر فضیلت والی ہو گی انجیر کو رات کو بھگو کر رکھو رات کو جب صبح اٹھو اسی پانی کو گرائینڈ کرلو اور گرائینڈ کر کے نہار منہ پانی پی لو اس کے ساتھ رات کو ایک گلاس دودھ لو آدھی چائے کی چمچ اس میں ہلدی اور آدھی چائے کی چمچ اس میں دار چینی ملاؤ اس کو اتنا پکاؤ کہ وہ ایک گلاس پونا رہ جائے اس کو رات کو سونے سے پہلے پیو یہ اس کا بہترین علاج ہے سر کے بال بہت ٹوٹتے ہیں تو بھی یہ بہترین علاج ہے ۔ بیشتر کیسز میں اس کی وجہ واضح نہیں ہوتی اور یہ سوچا جاتا ہے کہ مسل کی تھکاوٹ اور اعصابی خرابی کا نتیجہ ہوتا ہے، مگر درحقیقت ایسا کیوں ہوتا ہے، یہ غیرواضح ہے۔ایسا عندیہ دیا جاتا ہے کہ سونے کا انداز، پیروں کا کھچاﺅ اور پنڈلی کے مسلز سکڑنا راتوں کو اس اکڑن کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ ایک اور خیال یہ ہے کہ اس کی وجہ آج کل دوزانوں یا آلتی پالتی مار کر نہ بیٹھنا ہوتا ہے ، کیونکہ اس پوزیشن سے پنڈلی کے مسلز کو پھیلاتی یا کھینچتی ہے۔ورزش بھی ایک عنصر ہے اور کسی مسل پر زیادہ وقت تک دباﺅ ڈالنا یا استعمال کرنا بھی اس اکڑن کا باعث بن سکتا ہے، جسم میں پانی کی کمی بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہے مگر اس حوالے سے شواہد زیادہ ٹھوس نہیں۔اس کے علاوہ کئی بار یہ مسئلہ کسی مرض جیسے ہیضے، فلیٹ فٹ، الکحل کا زیادہ استعمال، معدے کی بائی پاس سرجری، تھائی رائیڈ امراض، گردے فیل ہونا،

ذیابیطس ٹائپ ٹو، کینسر کا علاج، مسل کی تھکاوٹ، رگوں کے امراض، پارکنسن امراض، حملہ اور مخصوص ادویات کے استعمال کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔طریقہ علاج:اس قسم کے درد کے لیے کسی قسم کی دوا کی تجویز نہیں کی جاتی، اگر بہت شدید اکڑن سے مسل میں نرم محسوس ہونے لگتا ہے تو عام درد کش دوا ممکنہ طور پر مدد دے سکتی ہے۔نرمی سے مسلز کو اسکریچ کرنا، متاثرہ حصے پر ہاتھ سے مساج کرنا، فوم رولر کو استعمال کرکے ٹانگ پر مساج کرنا، ٹانگ کو پھیلانا اور سکیڑنا بھی مسلز کو پھیلانے میں مدد دیتا ہے، کسی گرم چیز کو متاثرہ حصے پر لگانا۔ایسے محدود شواہد موجود ہیں کہ ورزش اور مسلز اسکریچنگ، کیلشیئم اور وٹامن بی 12 ممکنہ طور پر مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، جبکہ حاملہ خواتین کو ڈاکٹر ملٹی وٹامنز استعمال کرسکتے ہیں۔بچنا کیسے ممکن:بعض اقدامات اس سے بچاﺅ میں مدد دے سکتے ہیں، جیسے سونے کے دوران پیروں کی انگلیوں کے نیچے سپورٹ دینا یا پیر کو کسی تکیے پر رکھ کر سونا، مناسب فٹنگ والے جوتوں کا استعمال، جسمانی سرگرمیاں جیسے چہل قدمی کرنا، مناسب مقدار میں پانی پینا وغیرہ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.