اللہ کے ناموں سے اپنی مشکلات کا حل نکالنے کا طریقہ

اس آزمائش کے دوران اس کو طرح طرح کی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے وقت میں بہت سارے انسان مشکلات سے گھبرا کر راستے سے بھٹک جاتے ہیں ۔اور یہ فراموش کر بیٹھتے ہیں کہ یہ صرف اور صرف اللہ کی جانب سے لیا جانے والا امتحان ہے۔ اور اس کا صلہ بھی وہی دے گا۔اللہ کی انسان سے محبت کی شدت کو

ناپنے کے لۓ ستر ماؤں کی مثال دی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی اپنے بندوں سے اس کی محبت۔ کو ناپنے کا پیمانہ آج تک دریافت ہی نہ ہو سکا ہے۔اللہ ذوالجلالِ والاکرام کے تمام نام بہترین ہیں۔لہٰذا ان میں کسی بھی قسم کی تاویل۔ تعطیل یا تشبیہ یا انکار کا عقیدہ رکھنا صریحاً الحاد ہے۔ اللہ رب العزت کے کسی بھی نام کو اس سے دعاء میں وسیلہ بنایا جاسکتا ہے۔ اور یہی سب سے بہترین وسیلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمانِ مبارک ہے۔وَللہ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بھَا وَ ذَرُوا الَّذِین یُلْحِدُوْنَ فی اَسْمَآئِہٖ، سَیُجْزَوْنَ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (الاعراف:180’’اور اللہ تعالیٰ کے لئے اچھے نام ہیں۔لہٰذا انہی کے ساتھ اسے پکارو اوران لوگوں کو چھوڑ دو۔ جو اس کے ناموں کے بارے میں کج روی کا شکار ہیں۔ جو کچھ وہ کرتے ہیں اس کا انہیں عنقریب بدلہ دیا جائے گا۔اسی طرح حدیث نبوی ہے بے شک اللہ تعالی کے ننانوے نام ہیں۔ جنہوں نے ان

ناموں کو یاد کیا وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ صحیح بخاریاللہ تعالی کے ان ناموں کو وسیلے بنا کر مانگنے کی مثال ہمیں اسوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بارہا ملتی ہے ۔ اَسْاَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ ھُوَ لَکَ سَمَّیْتَ بِہٖ نَفْسَکَ اَوْ عَلَّمْتَہٗ اَحَدًا مِنْ خَلْقِکَ اَوْ اَنْزَلْتَہٗ فِیْ کِتَابِکَ اَوِ اسْتَاْثَرْتَ بِہٖ فِیْ عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ ۔پیارے نبی اللہ کے ناموں کے وسیلے سے اس طرح دعا کیا کرتے تھے۔’’اے اللہ! میں تیرے ہر اس نام کے واسطے سے تجھ سے سوال کرتا ہوں۔جو تو نے اپنی ذات کے لئے پسند فرمایا، یا اپنی کتاب میں نازل فرمایا، یا اپنی مخلوقات میں کسی کو سکھادیا یا اسے اپنے خزانۂ غیب میں مخفی رکھا۔اللہ انسان کو جن طریقوں سے آزماتا ہے وہ اس کی صحت،مال اور اولاد ہے اس آزمائش کے دوران اللہ چاہتا ہے کہ انسان ایسے موقعوں پر اس کو پکارے تاکہ وہ نہ صرف ان کی مدد کرے بلکہ اس کو دور بھی کرے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *