کھڑے ہوکر پیشاب کرنا حرام ہے یا حلال؟

س 1: کسی انسان کا کھڑے ہوکر پیشاب کرنا حرام ہے یا حلال؟ ج 1: تمام تعريفيں صرف الله كيلئے ہيں، اور۔ صلاۃ وسلام نازل ہو اللہ کے رسول پر، آپ کی آل اور آپ کے اصحاب پر ۔. حمد و صلوٰۃ کے بعد۔: کسی بھی انسان کا کھڑے ہوکر پیشاب کرنا

حرام نہیں ہے، لیکن بیٹھ کر پیشاب کرنا سنت ہے، اس لئے کہ حضرت عائشہ رضي الله عنها فرماتی ہیں کہ جو تم سے یہ بیان کرے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر پیشاب کرتے تھے تم اس کی تصدیق نہ کرو، کیونکہ آپ بیٹھکر ہی پیشاب کرتے تھے۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے روايت كيا ہے، اور امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ اس باب میں سب سے زیادہ صحیح حدیث ہے۔ اور اس لئے بھی کہ بیٹھکر پیشاب کرنے میں زیادہ سترپوشی ہوتی ہے۔، اور اسی میں پیشاب کے چھینٹوں سے زیادہ حفاظت ہوتی ہے اور کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کے سلسلے میں حضرت عمر، علی، ابن عمر، اور زید بن ثابت رضی الله عنهم سے اجازت اور چھوٹ منقول ہے۔، اس لئے کہ امام بخاری اور مسلم نے حضرت حذیفہ رضي الله عنه سے روایت کیا ہے۔، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ کسی قوم کی کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے یہاں کھڑے ہوکر پیشاب اس لئے کيا کہ۔ یہ جگہ بیٹھنے کے مناسب نہیں تھی۔، یا آپ نے اس لئے کیا، تاکہ لوگوں کو یہ بتلا دیں ۔کہ کھڑے ہوکر پیشاب کرنا حرام نہیں ہے۔، اور اس سے اس حقیقت کی نفی نہیں ہوتی ہے۔ جس کا ذکر حضرت عائشہ ( جلد کا نمبر 5، صفحہ 107) رضي الله عنها نے کیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم ہمیشہ بیٹھ ہی کر پیشاب کیا کرتے تھے۔، اور یہ ایک سنت ہے، کوئی ایسا واجب نہیں ہے۔ کہ اس کے خلاف کرنا حرام ہی ہو۔ وبالله التوفيق۔ وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلم۔کوڑی (کوڑا پھینکنے کی جگہ) پر تشریف لائے اور آپ نے وہاں کھڑے ہو کر پیشاب کیا اور اس حدیث اور حضرت عائشہ رضي الله عنها کی سابقہ حدیث میں کوئی تعارض نہیں ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.